انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 142

انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۴۲ تحریک آزادی کشمیر أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ قضیہ کشمیر کے متعلق چند تلخ و شیریں باتیں قضیہ کشمیر اس قدر جلد جلد صورت میں بدل رہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے متعلق ایک مجموعی نظر کی اشد ضرورت ہے ورنہ بالکل ممکن ہے کہ یہ کام بالکل خراب ہو جائے اور امیدوں کے بالکل الٹ نتیجہ نکلے ۔ ہندوستان کے مسلمان عام طور پر سیاسیات سے ناواقف ہیں اور اس وجہ سے وہ زیادہ تر نقل کرتے ہیں لیکن ریاستوں کے مسلمان تو بیچارے اور بھی ناواقف ہیں ان کے لئے دوسروں سے بہت زیادہ خطرات ہیں۔ اور جس شخص کو بھی اللہ تعالی توفیق دے اس کا فرض ہے کہ انہیں حقیقت سے آگاہ کرے تاکہ وہ تکالیف سے محفوظ ہوں اور کامیابی کا منہ دیکھیں۔ اس زمانہ میں خوشامد اور سب سے بڑا خطرہ غلط امیدیں۔ خوشامد اور چاپلوسی کا مرض چاپلوسی کا مرض اور اس طرح فخرو خود پسندی کا مرض اس قدر عام ہو گیا ہے کہ جو لوگ اس سے بچنا چاہتے ہیں وہ دشمن یا بزدل قرار دیئے جاتے ہیں۔ اور اس وجہ سے بہت سے بچے مخلص مایوس ہو کر اپنے گھر بیٹھ رہتے ہیں اور مظلوم اپنی مظلومیت میں بڑھتا جاتا ہے۔ یہی مرض مسئلہ کشمیر کو بھی لاحق ہو رہا ہے اور میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ مسلمانان کشمیر اور ہندوستان کو اس مرض کے خطرات سے آگاہ کردوں۔ یہ بالکل آسان ہے کہ میں یہ دعوی کروں کہ چند ایام میں میں کشمیر کے لوگوں کو ان مظالم سے بچالوں گا جو ریاست کی طرف سے ۔ سے ہو رہے ہیں لیکن یہ امر بالکل اور ہے کہ میں ایسا کر بھی دوں۔ اسی طرح یہ امر بالکل اور ہے کہ میں یہ دعوی کروں کہ میری جان و مال اہلِ کشمیر