انوارالعلوم (جلد 12) — Page 139
انوار العلوم جلد ۱۲ لوگ اس کمیٹی سے الگ ہو گئے ہیں۔ ۱۳۹ تحریک آزادی کشمیر (۳) وزیر آباد سیالکوٹ اور دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا کہ خواجہ حسن نظامی صاحب کہتے ہیں کہ میں مرزا محمود احمد صاحب کی صدارت کا مخالف تھا۔ اور ڈاکٹر سر اقبال صاحب کی طرف یہ امر منسوب کیا گیا کہ وہ اس کام سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ (۴) سیالکوٹ اور دیگر شہروں میں بیان کیا گیا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صد رایسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے جس نے کبھی کسی اسلامی کام میں حصہ نہیں لیا اور صرف اس کام کو خراب کرنے کے لئے اس کام میں شامل ہوا ہے۔ جو لوگ اور اس کے ساتھ ہیں وہ ٹوڑی ہیں اور قوم کو فروخت کر دیں گے۔ (۵) سیالکوٹ اور دوسرے شہروں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کشمیر کمیٹی کی صدارت کو امام جماعت احمدیہ نے اپنی تبلیغ کا ذریعہ بنایا ہے اور لوگوں کو لکھتے ہیں کہ سب ہندوستان نے مجھے امام مان لیا ہے اب تم بھی میری بیعت کر لو ۔ (۶) سیالکوٹ میں صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے متعلق ہزاروں کے مجمع میں کہا گیا کہ اس کا واحد علاج یہ ہے کہ جہاں ملے جوتی نکال کر اس کے سر پر مارو۔ تمہاری جوتی اور اس کا سر۔ تمہاری جوتی اور اس کا سر ۔ تمہاری جوتی اور اس کا سر۔ (۷) سیالکوٹ میں احمدیہ جماعت کے متعلق کہا گیا کہ ان لوگوں نے کشمیر کی حفاظت کیا کرنی ہے جو اپنی ماؤں کی حفاظت بھی نہیں کر سکے۔ ان کی تو ماں بھی دوسروں کے قبضہ میں ہے۔ (۸) کشمیر کی تائید میں سیالکوٹ میں جو جلسہ کیا گیا اس کے متعلق ساتھ کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ وہاں احرار کا جلسہ ہو گا۔ جلسہ کے موقع پر پندرہ میں ہزار آدمی حملہ آور ہو کر شور کرتا رہا اور ایک حصہ ایک گھنٹہ سے زائد تک سنگ باری کرتا رہا۔ تا آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا جلسہ منتشر ہو جائے اور احرار کا جلسہ ہو سکے ۔ سنگ باری کا یہ حال تھا کہ باوجود چاروں طرف لوگوں کے ہجوم کے حلقہ میں آکر پتھر گرتے تھے اور تین پتھر مجھے آکر لگے۔ پچیس آدمی سخت زخمی ہوئے اور سینکڑوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ صدر کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اسے نظر انداز کر کے وہ محض ذاتی سوال ہے دوسرے امور کے متعلق میں پوچھتا ہوں کہ وہ سوال اگر بغیر جواب کے رہیں تو کیا