انوارالعلوم (جلد 12) — Page 124
ا تو ا را العلوم جلد ۱۳ ۱۲۴ تحریک آزادی کشمیر سے ملا۔ اب میں اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے اس وقت تک کیا کام کیا ہے۔ پہلا کام اس کا یہ ہے کہ ا یہ ہے کہ پہلے حکومت برطانیہ پورے طور پر مسلمانوں کے خلاف تھی اور وائسرائے سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے افسر تک کی یہی رائے تھی کہ یہ صرف چند ایک مسلمانوں کی شرارت ہے اور میں جس وقت شملہ پہنچا تو فضاء مسلمانوں کے سخت خلاف تھی۔ ہم نے ہر افسر سے مل کر اس مسئلہ کے متعلق اس سے بحثیں کیں اور آخر اکثر کی رائے میں تبدیلی پیدا ہو گئی حتی کہ حکومت کی طرف سے ریاست پر زور ڈالا گیا اور ریاست نے دیتے ہوئے مسلمانوں سے صلح کی خواہش کی۔ خود میں اسی غرض سے وائسرائے گورنر پنجاب سے بھی بوجہ ملحقہ صوبہ کا گورنر ہونے کے گفتگو کی۔ اسی طرح ایک اور ممبر حکومت سے اس بارہ میں تبادلہ خیال کیا۔ بقیہ لوگوں سے مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔ اے ملتے رہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے واقعات ہیں لیکن سب کا بیان کرنا خلاف مصلحت ہے۔ اور چاہئے کسی کی تسلی ہو یا نہ ہو ، تمام باتوں کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں یہ امر ہر اک جان سکتا ہے کہ ہماری اس کوشش کے نتیجہ میں حکومت ہند میں ایسی حرکت پیدا ہوئی جو مسلمانوں کے حق میں مفید تھی۔ پھر "کشمیر ڈے " کا اعلان کیا گیا ؟ ے کا اعلان کیا گیا جس کی غرض یہ تھی کہ شملہ میں جب کانفرنس ہوئی تو بعض اصحاب کی رائے تھی وائسرائے کے پاس ایک وفد لے جایا جائے لیکن بعد غور یہ فیصلہ ہوا کہ اس وقت وفد لے جانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اگر وہ یہ دریافت کریں کہ آپ لوگوں کو نمائندگی کا حق کس نے دیا ہے تو ہم کیا جواب دے سکتے ہیں اس لئے پہلے ”کشمیر ڈے منایا جانا چاہئے۔ ہر جگہ سے حکومت کو تار دیئے جائیں کہ کشمیری مسلمانوں سے ہمیں ہمدردی ہے اور ان کی امداد کے لئے کشمیر کمیٹی جو کچھ کر رہی ہے ہم اس سے متفق ہیں۔ جب ہر جگہ سے جلے ہو کر حکومت کو اطلاعات دی جائیں گی تو پھر ہماری آواز آٹھ کروڑ مسلمانوں کی آواز سمجھی جائے گی۔ گو وقت بہت تھوڑا تھا مگر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی کوشش سے ہندوستان کے ہر گوشہ میں نہایت شاندار اور کامیاب جلسے ہوئے۔ خود سیالکوٹ کے لوگ گواہ ہیں کہ مقامی کشمیر کمیٹی کی کوشش سے یہاں ایسا کامیاب اور شاندار جلوس اور جلسہ ہوا کہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ یہ ایک ایسا کام ہے جسے ہر شخص نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا اس پر قریبا پچاس ہزار روپیہ خرچ ہوا۔ یہ کوئی فضول کام نہیں بلکہ نہایت دیرپا اور مفید تحریک تھی۔ جس کے پھل مدتوں تک نکلتے رہیں