انوارالعلوم (جلد 12) — Page 118
انوار العلوم جلد ۱۴ ١١٨ تحریک آزادی کشمیر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام اور اس کا کام (سیالکوٹ کے جلسہ عام میں تقریر) تشهد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ ہماری پاک اور مقدس کتاب کی ابتداء ایک ایسے جملہ سے ہوتی ہے کہ ایک دفعہ ہی اسے دُہرانے سے تمام کلفت اور تکلیف دور ہو جاتی ہے۔ کس شان کا یہ فقرہ ہے اور کس قسم کے ہمت بندھانے والے خیالات دل میں پیدا کر دیتا ہے جب انسان منہ سے کہتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی سب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہی ہیں۔ بندے غلطیاں کرتے ہیں، انسانوں سے کمزوریاں سرزد ہوتی ہیں جس ہستی میں تمام خوبیاں جمع ہیں وہ محض ذاتِ باری تعالی ہی ہے۔ جب یہ چیز ہمارے دلوں میں داخل ہو جائے تو اپنے خلاف قصور کرنے والے کو جلد معاف کیا جا سکتا ہے۔ اصل میں غصہ اس وقت آتا ہے جب امید کے خلاف کوئی بات سرزد ہو۔ اگر ایک شخص جنگل میں جا رہا ہو اور اسے یقین ہو کہ مجھے کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں مل سکتی تو اگر اسے سوکھی ہوئی روٹی اور کسی بھی مل جائے تو وہ ایسے نہایت خوشی سے کھالے گا لیکن ایک اعلیٰ درجہ کے ہوٹل میں جہاں سے اسے اچھے اچھے کھانے ملنے کی امید ہو ذرا سا نقص ، نمک کی معمولی سی کمی ، میٹھے کی زیادتی یا پکانے میں کو تاہی اس کے دل میں رنجش پیدا کر دے گی کیونکہ اسے وہاں سے اچھے کھانے ملنے کی امید تھی۔ جس کام کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ تمیں لاکھ انسان ایک دو تین نہیں، تمیں لاکھ آج سے نہیں ، صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرائے۔ اگر کسی شخص سے اس کا گدھا یا خچر چھینے کی کوشش کی جائے تو وہ کتنا لڑتا ہے۔ جب وہ اپنے گدھے کو اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تو تمیں لاکھ