انوارالعلوم (جلد 12) — Page 115
انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۱۵ تحریک آزادی کشمیر حصول کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار رہنے کی تلقین کرنے میں پوری طرح آزاد ہے اور اس وجہ سے صلح کے دنوں میں اس پر مردنی کی حالت نہیں آسکتی۔ لیکن ریاست جموں و کشمیر کا معاہدہ ایسا ہے کہ اس قسم کے ذکر اس میں بالکل روک دیئے گئے ہیں۔ اور اگر آج وہاں کے لیڈر مسجد میں کھڑے ہو کر یا کسی گھر میں ہی صرف یہ تقریریں کریں کہ مسلمانوں کے کون کون سے حق مارنے ہوئے ہیں اور یہ کہ ان کے حصول کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے انہیں تیار رہنا چاہئے تو ریاست اسے ضرور قابل اعتراض قرار دے گی۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ اہالیان ریاست میں مردنی پیدا ہو جائے گی اور سب گزشتہ کوشش برباد اور تباہ ہو جائے گی۔ ریاست سے باہر کا ایجی (۳) ریاست کی شروع سے یہ کوشش رہی ہے کہ 03 ایجی ٹیشن ثابت کرے کہ ریاست کے لوگ تو پر امن ہیں باہر کے لوگ فساد پیدا کر رہے ہیں اور انہیں اکسا رہے ہیں۔ اس سمجھوتہ میں نمائندگان نے ایک ایسا فقرہ لکھ دیا ہے جس کی بناء پر ریاست کہہ سکتی ہے کہ اس کے اس قسم کے اعلانات صحیح تھے۔ وہ فقرہ یہ ہے۔ مسلمان باشندگان ریاست باہر کے ایجی ٹیشن سے متاثر نہیں ہوئے اور وہ اب تک اپنے حاکم کے پہلے ہی کی طرح وفادار اور مخلص ہیں "۔ اس فقرہ کے صاف معنی یہ ہیں کہ ریاست سے باہر کوئی پروپا پروپیگنڈا غیر وفادارانہ ہوتا رہا ہے لیکن یہ درست نہیں کوئی پروپیگنڈا ریاست سے باہر ایسا نہیں ہوا جس کا موجب خود مظلومان کشمیر کی فریاد نہ ہو ۔ ہم نے کشمیر کے آمدہ خطوط کی بناء پر سب کام شروع کیا تھا اور کبھی بھی عدم وفاداری کا سبق نہیں دیا بلکہ باقاعدہ لکھتے رہے ہیں کہ رعایا اپنے فرمانروا کی وفادار ہے اور خود مطلب حکام مہاراجہ صاحب کو بلا وجہ اکسا کر یہ فساد پیدا کر رہے ہیں۔ نمائندگان کے اس اقرار کی وجہ سے جو انہوں نے یقیناً دھو کا میں آکر کیا ہے ریاست ایک ناجائز فائدہ اُٹھائے گی اور ان مسلم لیڈروں کو بد نام کرے گی جنہوں نے اہالیان کشمیر کے کہنے پر اور اپنے کسی ذاتی نفع کی خواہش کے بغیر محض ہمدردی کے طور پر اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔ (۴) آخر میں سر ہری کشن صاحب کول کا جو شکریہ ادا کیا گیا ہے وہ بالکل ہی عجیب ہے اور صاف بتاتا ہے کہ اس معاہدہ کی اصل غرض سر ہری کشن کول کو مہاراجہ صاحب کی نظر میں مقبول کرانا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ نمائندگان کو اس امر کے لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ