انوارالعلوم (جلد 12) — Page 112
انوار العلوم جلد ۱۴ All تحریک آزادی کشمیر اگر کہے کہ میں روپیہ دے دوں گا تب فیصلہ ہو گا۔ رسول کریم ملی کے زمانہ میں ایک ایسا ہی واقعہ گزرا ہے جس سے اس امر کی حقیقت خوب کُھل جاتی ہے۔ صلح ۔ حدیبیہ کے موقع پر ایک شرط یہ ہوئی تھی کہ عرب کے جو قبائل چاہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مل جائیں اور جو چاہیں مکہ والوں سے۔ دونوں فریق کا فرض ہے کہ نہ صرف آپس میں لڑائی سے بچیں بلکہ جو لوگ دوسرے فریق کے ساتھ مل جائیں ان سے بھی نہ لڑیں۔ مکہ والوں نے اس میں بد عہدی کی اور ایک قبیلہ جو مسلمانوں کا حلیف بن گیا تھا اس پر انہوں نے اپنے دوست قبیلہ کی حمایت میں رات کو حملہ کر دیا ۔ ان لوگوں نے رسول کریم میں ہم سے شکایت کی اور روست قبیلہ کی آپ نے اپنے کی حمایت میں مکہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ اُدھر ھر مکہ مکہ والے چونکہ معاہدہ توڑ چکے تھے اس لئے انہیں بھی فکر ہوئی اور انہوں نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو جو اب تک اسلام نہ لائے تھے مدینہ روانہ کیا کہ جا کر کسی طرح رسول کریم میں ایم کی ناراضگی کو دور کریں۔ انہوں نے آکر مسجد نبوی میں یہ اعلان کر دیا کہ چونکہ میں صلح حدیبیہ کے وقت مکہ میں موجود نہ تھا اور معاہدہ پر میرے دستخط نہ تھے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ معاہدہ آج سے سمجھا جائے گا۔ چونکہ دوسرے فریق یعنی رسول کریم میں تعلیم کی طرف سے تصدیق نہ تھی سب صحابہ اس پر ہنس پڑے کہ یہ کیسا بے وقوفی کا اعلان ہے۔ جب تک ہم لوگ بھی اس امر کو تسلیم نہ کریں صرف ان کے کہنے سے کیا بنتا ہے اور ابو سفیان سخت شرمندہ ہو کر واپس چلے گئے ۔ ۲ نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس اعلان کے رسول کریم میں ہم نے مکہ پر چڑھائی کی اور اور خدا خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق مکہ فتح ہو گیا۔ یہی صورت موجودہ معاہدہ میں ہوئی ہے۔ مسلم نمائندگان کہتے ہیں کہ ہمارے مطالبات پیش ہوں گے۔ ریاست اس کے جواب میں کوئی وعدہ نہیں کرتی صرف یہ کہتی ہے کہ مقدمات ملتوی کر دیئے جائیں گے اور جو ملازم ایام شورش میں علیحدہ کئے گئے تھے ان سے آئندہ اجتناب کا وعدہ لے کر بحال کر دیا جائے گا۔ یہ بات تو موجودہ ہیجان سے پہلے ہی حاصل تھی۔ اگر سب قربانیوں کے بعد ہمیں یہ حق ملے کہ جس طرح تمہاری حالت پہلے تھی ویسی ہی اب کر دی جائے گی تو ہماری قربانی کا کیا فائدہ افائده؟ انگریزی علاقہ میں گورنمنٹ اور رعایا کی صلح تبھی ہوئی ہے جب کہ حکومت نے پہلے اس امر کو اصولاً تسلیم کر لیا کہ ہندوستان کو آزادی دی جائے گی۔ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس صرف اس کی تفصیلات کے لئے منعقد ہوئی ہے۔ اسی طرح ریاست سے یہ عہد لینا ضروری تھا کہ وہ