انوارالعلوم (جلد 12) — Page 101
انوار العلوم جلد ۱۲ تحریک آزادی کشمیر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مسلمانان سرینگر پر گولی چلانے کا اندوہناک حادثہ ( حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا تار وائسرائے ہند کو) یور ایکسیلنسی اکشمیر میں مسلمانوں کی خستہ حالی سے ناواقف نہیں۔ تازہ ترین اطلاعات سے پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں پر نہایت ہی خلاف انسانیت اور وحشیانہ مظالم کا ارتکاب شروع ہو گیا ہے۔ ۱۳۔ جولائی کو سرینگر میں جو کچھ ہوا وہ فی الواقعہ تاسف انگیز ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی اطلاع کے مطابق 9 مسلمان ہلاک اور متعدد مجروح ہوئے ہیں لیکن پرائیویٹ اطلاعات سے پایا جاتا ہے کہ سینکڑوں مسلمان ہلاک اور مجروح ہوئے ہیں۔ ریاست سے آنے والی تمام خبروں پر سخت سنسر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں جو تار موصول ہوا وہ سیالکوٹ سے دیا گیا ہے۔ ہنزہائی نس مہاراجہ کشمیر کے تازہ اعلان کے معا بعد جس میں انہوں نے اپنی مسلم رعایا کو کئی طرح کی دھمکیاں دی ہیں، اس قسم کی واردات کا ہونا صاف بتاتا ہے کہ یا تو غریب مسلمانوں پر بلا وجہ حملہ کر دیا گیا ہے اور یا ایک نہایت ہی معمولی سے بہانہ کی آڑ لے کر ان بے چاروں کو سفاکی کے ساتھ ذبح کر دیا گیا ہے۔ کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے لیکن ان کے حقوق بے دردی سے پامال کئے جا رہے ہیں۔ اس وقت وہاں مسلم گریجوایٹوں کی تعداد بہت کافی ہے۔ مگر انہیں کوئی ملازمت نہیں دی جاتی۔ یا اگر بہت مہربانی ہو تو کسی ادنی سے کام پر لگا دیا جاتا ہے اور جب ایک ملک کی ۹۵ فیصدی آبادی کو اس کے جائز حقوق سے صریح نا انصافی کر کے محروم رکھا جائے، اس کے دل میں ناراضگی کے جذبات کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ لیکن نہایت ہی افسوس ہے کہ ریاست کے ذمہ دار حکام بجائے اس کے کہ مسلمانوں کے جائز مطالبات منظور کریں ، ان کی خفگی کو رائفلوں اور بک شاٹ (BUCK SHOT) کے سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ جموں کے