انوارالعلوم (جلد 12) — Page xiv
انوار العلوم جلد ۱۲ تعارف کتب عملی تعاون پیش فرماتے رہے۔ ۳۱۔۱۹۳۰ء میں حضور نے وقت کے تقاضہ کے مطابق اس طرف خاص طور پر توجہ دی ۔ چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں اردو کے ایک مؤقر رسالہ ”’ ادبی دنیا میں چند مضامین لکھے جن کی شہرت سارے ملک میں پھیلی اور انہیں قدر کی نگاہ سے پڑھا گیا ۔ یہ رسالہ ان دنوں علامہ تاجور نجیب آبادی کی ادار کی ادارت میں لاہور سے شائع ہوتا تھا اور اپنے معاصرین میں ممتاز مقام رکھتا تھا زیر نظر مضمون حضور کا اس بارہ میں دوسرا مضمون تھا جو مارچ ۱۹۳۱ء کے شمارہ میں آپ کے فوٹو کے ساتھ شائع کیا گیا۔ اس میں حضور نے تحریر فرمایا کہ اردو زبان کی ترقی میں ایک بڑی دقت یہ ہے کہ ابھی تک اس کی لغت کتابی شکل میں اور مکمل صورت میں مدون نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس کے قواعد پورے طور پر احاطہ تحریر میں آئے ہیں۔ علمی مضامین کو ادا کرنے کیلئے اصطلاحیں بھی مکمل نہیں ۔ کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں کام کیا ہے لیکن ابھی بہت کام کرنے کیلئے پڑا ہے جس کی طرف متحدہ توجہ کی ضرورت ہے۔ فرمایا کہ ہندو مسلم آویزش اور باہمی تعصب بھی ایک بڑی روک ہے۔ ایک سنسکرت کے الفاظ اور اصطلاحیں اس زبان میں شامل کرنا چاہتا ہے اور دوسرا عربی اور فارسی کو۔ اس لئے ضرورت ہے کہ تعصب کو ایک طرف رکھتے ہوئے باہمی تعاون سے اردو کی خدمت کی جائے اور اس کا دائرہ وسیع کیا جائے ۔ آپ تحریر فرماتے ہیں :۔ میری ان معروضات کا مطلب یہ ہے کہ اردو کی ترقی کیلئے ایسے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں کہ بجائے ایک محدود جماعت کی دلچسپی کا مرکز بننے کے جمہور کو اس سے دلچسپی پیدا ہو ۔ خالص علمی رسائل صرف منتخب اشخاص کی توجہ منعطف کرا سکتے ہیں اور زبانیں چند آدمیوں سے نہیں بنتیں خواہ وہ بہت اونچے پایہ کے کیوں نہ ہوں ۔ قاعدہ یہ ہے کہ زبان عوام الناس بناتے ہیں اور اصطلاحیں علماء ۔ اُردو بھی اس قاعدہ نشئی نہیں ہو سکتی ۔ پس اگر ہم اردو کی ترقی کے مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس کا ذریعہ صرف یہی ہے کہ ہمارے ادبی رسالوں میں اس کے علمی پہلوؤں پر بچشیں سے ہوں تا کہ صرف پیش آنے والی مشکلات کے علاج ہی کا سامان نہ ہو بلکہ عوام الناس بھی ان تحقیقات سے واقف ہوتے جائیں ۔“ XXXXXXXXXXXXXXXXXX