انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 84

أنوار العلوم جلد ۱۲ له جماعت احمد یہ دہلی کے ایڈریس کا جواب آئیں تا ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں کی نسلیں اس نور کی شناخت سے محروم رہ جائیں جو اس زمانہ میں اللہ تعالی نے ان کی ہدایت کیلئے بھیجا ہے۔ اور فرمایا کہ یقیناً ایک دن ایسا آئے گا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو کھول دے گا اور وہ حق کو قبول کریں گے۔ میں گو اُس وقت چھوٹا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قول کا اثر اب تک میرے دل پر کر باقی ہے۔ پس یہاں کی جماعت اپنی کوششوں کا اگر کوئی نیک نتیجہ دیکھنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ خدا پر بھروسہ رکھے۔ یقینا ایک دن ایسا آئے گا کہ جس چیز کو خدا قائم کرنا چاہتا ہے وہ ہو رہے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کشف میں دیکھا کہ ایک نالی بہت لمبی کھدی ہوئی ہے اور اس کے اوپر بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک بھیڑ کے سر پر ایک قصاب ہاتھ میں چھری لئے ہوئے تیار ہے اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے جیسے حکم کا انتظار ہے۔ میں اس وقت اس مقام پر مل رہا ہوں۔ ان کے نزدیک جاکر میں نے کہا ۔ قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ۔ انہوں نے اُسی وقت چھریاں پھیر دیں۔ جب وہ بھیڑیں تڑپیں تو انہوں نے کہا کہ تم چیز کیا ہو ۔ گوں کھانے والی بھیڑیں ہی : ریں ہی ہو ۔ کہ ان ایام میں ستر ہزار آدمی ہیضہ سے مرا تھا۔ پس اگر کوئی توجہ نہیں کرتا تو خدا کو اس کی کیا پرواہ ہے۔ اس کے کام رک نہیں سکتے وہ ہو کر رہیں گے۔ بھلا کون شخص حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہ خیال کر سکتا تھا کہ آپ کو یہ ترقیاں حاصل ہو جائیں گی۔ حضرت مسیح ناصری کے تین سو سال بعد عیسائیت کو ترقی نصیب ہوئی لیکن اگر ہمارے حالات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کے زمانہ سے بہت پہلے احمدیت کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔ آپ نے جو مبلغ کے لئے درخواست کی ہے اس کے متعلق آپ ناظر صاحب کی وساطت سے لکھیں تو میں اِنْشَاء الله اس پر غور کروں گا کیونکہ میں نظام کو توڑنا نہیں چاہتا اور اگر میں ہی نظام کو توڑوں تو میں دوسروں سے کیا امید رکھ سکتا ہوں کہ وہ نظام کی پابندی کریں گے۔ لیکن ایک بات جو میں کہنا چاہتا ہوں اس کو یاد رکھیں کہ مبلغوں کے ذریعہ تبلیغ نہیں ہوا کرتی۔ حضرت رسول کریم میں نے اپنی زندگی میں کوئی مبلغ نہیں رکھا بلکہ افراد کے ذریعہ سے اسلام پھیلا۔ یہ مت خیال کرو کہ ہمیں علم نہیں کیونکہ دین کے لئے ظاہری علم کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ہمیں اسلام پہنچایا وہ بڑے عالم نہ تھے۔ لیکن وہ ایران پہنچے ، چین پہنچے ، غرض کہ الله الله