انوارالعلوم (جلد 12) — Page xii
انوار العلوم جلد ۱۳ سر تعارف کتب تھا وہ ایسی غذا تھی جسے ایک عرصہ تک کھایا جا سکتا تھا۔ اور اس کی مصلح ترنجبین بھی ساتھ پیدا کر دی گئی تھی تا کہ جنگل کی خشک غذا صحت کو نقصان نہ پہنچائے ۔ حضور کی اس تشریح کے ساتھ من کے سلسلہ میں سب سوال حل ہو جاتے ہیں ۔ یہ کہ اس غذا کو من کیوں کہا گیا ؟ یہ بھی کہ من کو لوگ دیر تک کس طرح کھاتے رہے؟ یہ بھی کہ وہ سال بھر کس طرح ملتی رہتی تھی اور یہ بھی کہ اس سے روٹیاں پکتی تھیں اور تازہ تیل کا مزہ آتا تھا۔ کیونکہ وہ ایک چیز نہ تھی بلکہ کئی چیزوں کا نام من تھا۔ حضور کا یہ مضمون علمی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا۔ اس مضمون کو شائع کرتے ہوئے ایڈیٹر رسالہ ”ادبی دنیا نے جو نوٹ لکھا وہ درج ذیل ہے :۔ الرحمن صاحب من کی حقیقت ۔ اس بحث پر پہلا دلچسپ مضمون مولانا نعیم الرحمن ایم ۔ اے لیکچرار الہ آباد یونیورسٹی کا شائع ہو چکا ہے۔ اس کو پڑھ کر ایک بہت بڑے مذہبی ادرہ سے ایک عظیم القدر مذہبی پیشوا نے جنہیں کم و بیش پانچ لاکھ امتیوں کی سعادت حاصل ہے ایک سیر حاصل مضمون ارسال فرمایا ہے ۔ یہ محققانہ مضمون پہلے مضمون کی توضیح و تشریح ہے۔ ہم مولانا نعیم الرحمن صاحب کے ممنون ہیں کہ ان کی سبقت نگاری نے ایک عالی جاہ مذہبی راہنما کے خاصہ جواہر چکاں سے ایک بیش بہا مضمون لکھوا دیا۔“ (رسالہ ادبی دنیا‘ مارچ ۱۹۳۱ء) (۲) ندائے ایمان نمبر ۲ ۱۹۳۰ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے احباب جماعت کو اپنی اس تحریک کی طرف دوبارہ توجہ دلائی کہ ہر احمدی ہال میں کم از کم ایک نیا احمدی اپنے پایہ اور مرتبہ کا ضرور بنائے ۔ حضور پایہ کا نے اس تحریک پر خاص زور دیا۔ اسے مزید موثر بنانے کیلئے حضور نے تبلیغی اشتہارات کا ایک نہایت مفید سلسلہ ندائے ایمان کے نام سے شروع کیا۔ اس کا پہلا نمبر آپ نے ۱۷ جنوری ۱۹۳۰ء کو لکھا جو پوسٹر اور پمفلٹ کی صورت میں ساٹھ ہزار سے زائد چھپوا کر تقسیم کیا ؟ کیا گیا۔ موجودہ اشتہار اس سلسلہ کا دوسرا نمبر ہے۔ اس میں حضور نے اس امر کی وضاحت فرمائی کہ رسول کریم