انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 59

انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۹ تحفہ : ار دارون اسی اصل کے ماتحت احمدیت نسلی بادشاہتوں کی مخالف ہے کیونکہ اس طرح ایک خاندان محض وراثت کی بناء پر نہ کہ لیاقت کی بناء پر دوسرے لوگوں کی ترقی کے راستہ میں روک بنتا ہے۔ اسی طرح وہ قومی برتری اور امتیاز کے بھی مخالف ہے کیونکہ اس طرح بھی بعض عہدوں 6 تجارتوں یا کاموں کے دروازے بعض خاص افراد کیلئے کھلے ہوتے ہیں اور دوسروں کیلئے بند اور یہ ہرگز درست نہیں کہ جو کام خدا تعالیٰ نے سب کیلئے کھلے رکھے ہیں انہیں بعض کیلئے مخصوص کر دیا جائے ۔ ۲۲۔ سلسلہ احمدیہ کی یہ بھی تعلیم ہے کہ موت انسانی زندگی کو ختم نہیں کر دیتی بلکہ وہ ایک لمبے سلسلۂ حیات کی ایک تبدیلی کا نام ہے ورنہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے غیر متناہی ترقیات کیلئے پیدا کیا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک جو مرتا ہے ایک نئی دنیا میں اور نئی قوتوں سے اپنے اس کام کو جسے اس نے اس دنیا میں شروع کیا تھا جاری رکھتا ہے۔ اگر وہ بڑے راستہ پر چلا تھا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی حالتوں میں سے گزارے گا جس سے اس کی حالت کی اصلاح ہو جائے اور وہ اپنی روحانی بیماریوں سے شفا پا کر خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر سکے اور اس کا دیدار اسے نصیب ہو سکے اور اس زمانہ علاج کا نام دوزخ ہے جس میں انسان صرف ایک عارضی زمانہ کے لئے جو روحانی بیماریوں کی نوعیت کی وجہ سے گو بہت لمبا ہو گا مگر پھر بھی ختم ہو جانے والا ہو گا داخل ہو گا۔ آخر سب انسان اللہ تعالیٰ کے قرب کو پالیں گے اور کوئی انسان بھی خواہ کس قدر گناہ گار ہی کیوں نہ ہو اور خواہ کسی مذہب کا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم نہیں رہے گا۔ کیونکہ اگر ایسا ہو تو پھر شیطان کی فتح سمجھی جائے گی جس نے ان بندوں میں سے بعض کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب کیلئے پیدا کیا تھا گمراہ کر دیا۔ پس ضرور ہے کہ سب انسان آخر نجات پا جائیں اور جنت میں جائیں جو اس مقام کا نام ہے جس میں انسان نئی روحانی طاقتیں پا کر اللہ تعالیٰ کی صفات کو بدرجہ اتم اپنے وجود میں پیدا کرنا شروع کرے گا اور نہ ختم ہونے والی ترقیات کے حصول کی ابدی کوششوں میں مشغول ہو گا تاکہ وہ اپنے تجربہ کی بناء پر معلوم کرلے کہ خدا تعالیٰ کی صفات غیر محدود ہیں جن کی انتہاء کو انسان غیر محدود کوشش سے بھی نہیں پہنچ سکتا اور ہر منزل کے بعد ایک اور منزل ظاہر ہو جاتی ہے جسے طے کرنا اس کیلئے ابھی باقی ہوتا ہے۔ یور ایکسیلنسی! احمدیت کی تعلیم کے خلاصہ کے بعد میں ایک دفعہ پھر آپ کی توجہ کو خاتمہ اس طرف پھراتا ہوں کہ بے شک یہ سلسلہ اس وقت کمزور ہے لیکن سب الہی سلسلے