انوارالعلوم (جلد 12) — Page 54
انوار العلوم جلد ۱۳ ولد تحفه لار ڈارون ہستی کے جو ذرہ ذرہ کا علم رکھتی ہو کوئی اور ہستی انسانی جدوجہد کی قیمت مقرر نہیں کر سکتی اور اسے حقیقی جزاء اور سزا نہیں دے سکتی۔ کیونکہ جب تک ہر انسان کے اختیار اور اس کی مجبوری کا صحیح اندازہ نہ لگایا جائے اس کی نیکی یا اس کی بدی کا بھی صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ہزاروں ہیں جو بظاہر نیک نظر آتے ہیں لیکن ان کی نیکی کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے اندر بدی کی قابلیت نہیں۔ لیکن ہزاروں ہیں جو بظاہر بد نظر آتے ہیں لیکن وہ نیک ہیں کیونکہ ان کیلئے بدی کے بہت سے محرکات ہیں اور بہت سی مجبوریاں بھی ہیں لیکن وہ اپنے نفس سے جنگ کرتے رہتے ہیں اور بعض دفعہ کامیاب اور بعض دفعہ مغلوب ہو جاتے ہیں۔ پس ماننا پڑتا ہے کہ اگر انسانی اعمال نے منافقت کی چادر سے نکل کر کبھی اپنی صحیح شکل میں ظاہر ہوتا ہے تو ایک ایسی ہستی ہونی چاہئے جو ظاہر و پوشیدہ کو اور ماضی، حال اور مستقبل کو یکساں طور پر جانتی ہو۔ تا کہ انسانوں کے متعلق عدل و انصاف سے فیصلہ کیا جائے۔ ۱۳۔ سلسلہ احمدیہ کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اخلاق کا سوال حل نہیں ہو سکتا جب تک انسانی پیدائش کے سوال کو مد نظر نہ رکھا جائے علم الاخلاق کی تمام بحثیں آخر ایک چکر میں تبدیل ہو جاتی ہیں جو ہمیں کسی خاص فیصلہ تک نہیں پہنچاتا لیکن اگر ہم انسان کی فطرت پر غور کریں تو لازما اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ وہ بعض باتوں کو اچھا اور بعض باتوں کو بُرا سمجھتی ہے۔ پس اچھے اور برے کا سوال تو ایک طبعی تقاضا ہے لیکن یہ کہ فلاں چیز بڑی ہے یا اچھی ہے مختلف فیہ مسئلہ ہے اور اس کی وجہ مذاہب کا اثر عادات کا اثر اور ماحول کا اثر ہے۔ پس اچھے اور بُرے اخلاق کا فیصلہ انسانوں کے میلانوں پر نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مختلف ہیں۔ ان کا فیصلہ صرف خدا تعالیٰ کی صفات سے مقابلہ کر کے کیا جا سکتا ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی شکل پر پیدا کیا ہے یعنی وہ طاقتیں اسے دی ہیں کہ الہی صفات کو اپنے اندر جذب کر سکے اور اخلاق حسنہ انہی صفات کو اپنے اندر جذب کرنے کا نام ہے اور اخلاق سینہ انہی سے دوری کا۔ ہر اک جو اپنی طاقتوں کو اسی طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی ہیں وہ اخلاق حسنہ پر عامل ہے اور جو اس کے خلاف کرتا ہے وہ اخلاق سینہ پر ۔ پس انسان کے اندر جس قدر طاقتیں ہیں سب ہی اچھے مصرف کیلئے ہیں۔ جس طرح خدا تعالیٰ میں کوئی عیب نہیں انسان میں بھی کوئی عیب نہیں بلکہ اس کی سب طاقتیں ضروری ہیں ہاں ان کے استعمال کی درستی یا غلطی سے وہ اچھا یا برا ہو جاتا ہے۔ پس اگر ہم نیک ہونا چاہتے ہیں تو ہمارا یہ فرض نہیں کہ اپنی طاقتوں کو