انوارالعلوم (جلد 11) — Page 43
انوار العلوم جلد 11 احمدی خواتین کے فرائض اور ذمہ داریاں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُةَ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ احمدی خواتین کے فرائض اور ذمہ داریاں (فرموده ۵ - اکتوبر ۱۹۲۹ء) ۵۔ اکتوبر ۱۹۲۹ء لجنہ اماء اللہ کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو جو ایڈریس پیش کیا گیا اس کے جواب میں حضور نے حسب ذیل تقریر فرمائی۔ سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں پہلے تو ممبراتِ لجنہ کا اپنی طرف سے اور اپنے خاندان اور اپنے ہمراہیوں کی طرف سے اس دعوت کے متعلق شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہماری آمد پر دی گئی ہے۔ اس کے کے با بعد اس امر پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ لجنہ آہستگی کے ساتھ گو استقلال کے ساتھ اپنے لئے کام کے نئے میدان تلاش کر رہی ہے۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ اگر لجنہ اسی طرح کام کرتی چلی گئی تو حقیقتاً نہ کہ نام کے طور پر اسے ہم ایک مرکزی لجنہ قرار دے سکیں گے۔ اس کے بعد جو کچھ لجنہ اپنے کام کو وسیع کرنے کے متعلق کر رہی ہے اس کی نسبت ایک بات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انجمنوں کی زندگی دراصل قانون کی زندگی ہوتی ہے۔ کسی ایک فرد سے کام لے کر بہت سے افراد کے ہاتھوں میں کام دینے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ افراد متحدہ جد و جہد کے احترام کے عادی ہو جائیں اور ان کے اندر یہ مادہ پیدا ہو جائے کہ اگر کسی وقت ایک لیڈر سے انجمن محروم ہو جائے تو کام کے تسلسل میں فرق نہ پیدا ہو۔ اس غرض کو پورا کرنے کے لئے یہ اہم اور ضروری بات ہوتی ہے کہ ہمیشہ قانون کی پابندی کی جائے اور قانون کی پابندی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ قانون مقررہ الفاظ میں موجود ہو ۔ جہاں لجنہ کی ممبرات اپنے کام کو وسیع کرنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں وہاں انہیں اپنے ہی قانون سے باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ اس ایڈریس میں جو اس وقت پڑھا گیا ہے ایک سکول کا ذکر