انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 38

انوار العلوم جلد ان ۳۸ ذی قاریان وہ امن و امان سے رہنے کے متمنی نہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ مسلمان چوہڑے، چمار اور گونڈ بھیل کی طرح ملک کے اندر رہیں۔ اب مسلمان دیکھ لیں کہ وہ ایسی زندگی بسر کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔ ہندو برابر چند سال سے ایسی حرکات کر رہے رہے ہیں۔ ایک جگہ فساد کرتے ہیں ہیں؟ وہاں کے مسلمان دو تین ماہ شور مچا کر خاموش ہو جاتے ہیں تو دوسری جگہ کر دیتے ہیں پھر تیسری جگہ غرضیکہ فسادات کا ایک سلسلہ انہوں نے شروع کر رکھا ہے۔ جس سے مقصد ان کا یہ ہے کہ مسلمان بزدل ہو جائیں اور خود بخود کہنے لگیں کہ ہمیں تمہاری غلامی منظور ہے۔ غرضیکہ ہندو روز بروز دلیر ہوتے چلے جا رہے ہیں اور بیہی وجہ ہے کہ مہابیر دل نے اعلان کیا ہے کہ ہم خون کی ندیاں بہا دیں گے لیکن مذبح نہیں بننے دیں گے۔ پس اب ہمارے سامنے یہ سوال ہے جس پر غور کرنا ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک مقامی جس سے باہر والوں کا تعلق نہیں ہے اور صرف قادیان یا اس کے ملحقہ دیہات سے جو یہاں سے گوشت لے جا سکتے ہیں تعلق رکھتا ہے کیونکہ یہاں کے مذبح کا گوشت یہاں کے لوگ ہی کھائیں گے۔ اور دوسرا پہلو اس جبر کا ہے جو اس کے گرانے کے متعلق کیا گیا اور وہ تعدی کی روح جس کا مظاہرہ ہوا۔ یہ ساری دنیا کے احمدیوں بلکہ سارے مسلمانوں بلکہ دوسری اقوام سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ مقامی حصہ کے متعلق تمام اخراجات مقامی جماعت کو برداشت کرنے ہونگے اگرچہ مرکزی نظام کے ماتحت ہی یہ کام ہو گا لیکن باہر کے لوگوں سے اس کے لئے مدد نہیں لی جائے گی۔ لیکن اس ظالمانہ روح کو توڑنا جیسا قادیان سے تعلق رکھتا ہے ویسا ہی دوسرے ۔ مقامات سے ہے اس لئے لوگوں کے اندر نئی زندگی اور ایسا جوش پیدا کرنا جس سے وہ ثابت کر دیں کہ وہ اس جبر کو ماننے کے لئے تیار نہیں یہ کام مرکز سے متعلق ہے۔ پس مرکزی حصہ کے متعلق تو باہر کی جماعتوں سے مدد لی جائے گی لیکن مقامی پہلو کی ہر قسم کی ذمہ داری مالی جانی، مقامی لوگوں کو برداشت کرنی چاہئے۔ اگرچہ اس میں میں بھی مرکزی جماعت مدد دے گی لیکن وہ SUBSIDY قسم کی ہو گی۔ اصل بوجھ مقامی جماعت پر ہی ہو گا۔ یہ نہیں کہ اس کے لئے بھی باہر سے مدد مان مدد مانگیں اور خود مجاور بن کر بیٹھے رہیں۔ یہ سپرٹ نہایت بری ہے۔ مقامی لوگوں کو تو ہر کام میں عملی نمونہ سے باہر والوں کی راہ نمائی کرنی چاہئے ۔ اگر چہ باہر کے لوگ بھی اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہیں، لیکن ہمیں اپنی ذمہ داری کو خود محسوس کرنا چاہئے۔ پس آپ لوگ یہ سمجھ کر کہ اس رستہ میں آپ کو بہت سی قربانیاں کرنی پڑیں گی، بھوکے پیاسے ننگے رہنا پڑے گا، سپاہیانہ