انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 36

انوار العلوم جلد ۳۶ مدی قادیان اسے عمدہ پالیسی سمجھتا ہے۔ افسران بالا کے ساتھ گفتگو کرنے سے جو باتیں معلوم ہوئی ہیں ان میں سے بعض مذبیح کے موافق نہیں۔ بلکہ ڈپٹی کمشنر جس نے انگریزی انصاف کا پورا پورا نمونہ دکھایا ہے اور پوری پوری تحقیقات کے بعد جو دوسری جماعت کو بے صبر کرنے والی تھی اس کی اجازت دی ہے۔ افسران بالا نے اس کے بھی خلاف رائے دی ہے حالانکہ سنا گیا ہے کہ پہلے کمشنر مسٹر کینوے بھی اس سے متفق تھے لیکن باوجود اس کے یہ دونوں افسر تجربہ کار مقامی حالات سے واقف اور علاقہ کے ذمہ دار تھے ان کی پرواہ نہیں کرتے۔ اور جب تک پورے زور کے ساتھ کوشش نہیں کی گئی افسران بالا نے واقعات کو معلوم کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ گویا وہ ایک ایسی قوم کو جو شروع سے وفاداری پر قائم رہی ہے قانون توڑنے پر مجبور کر رہے تھے اور دھتکار رہے تھے اور پوری کوشش کے بعد ہم صرف واقعات ان تک پہنچانے کے قابل ہو سکے ہیں۔ اب اس کا نتیجہ کیا ہو گا اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پس ابھی ہمارا کام ختم نہیں ہوا بلکہ شروع ہونے والا ہے۔ اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی ایسا نظام قائم کر لیں کہ اگر فیصلہ ہمارے خلاف ہو تو معاً اپنا کام شروع کر سکیں۔ میں نے بتایا ہے کہ ہم مذہبا پابندی قانون کے لئے مجبور ہیں۔ اگر احمدیت کا جوا ہماری گردنوں پر نہ ہوتا تو یقینا ہم بھی وہی طریقہ اختیار کرتے جو دوسرں نے کیا ہوا ہے اور یہ ہمارا گورنمنٹ پر کوئی احسان نہیں اور نہ اس کا بدلہ ہم اس سے چاہتے ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کا فرض تھا کہ اس انسان کا احترام کرتی جس نے اس کے لئے ایک وفادار جماعت پیدا کر دی ہے ایسا نہ کرنا گورنمنٹ کی احسان فراموشی ہے۔ مگر بہر حال ہم پابندی قانون کے لئے مجبور ہیں اور چاہے طبائع میں کتنا ہی جوش ہو ، ہمارے دشمن، شریک ساتھی، واعظ سب ہمیں طعنے دیں ہم نے بہر حال قانون کی پابندی کرنی ہے۔ لیکن قانون کے معنی ڈپٹی کمشنر ، کمشنر یا گورنر کا حکم نہیں بلکہ شہنشاہ معظم کے کے ۱۹۱۷ء کے اعلان کے مطابق گورنمنٹ کے معنی GOVT OF THE PEOPLE یعنی ملک کی آواز کے ہیں یعنی گورنمنٹ رعایا کی رائے کا نام ہے۔ پس جب گورنمنٹ کے معنی یہ ہیں تو اگر ہم اپنی آواز بلند ہی نہ کریں تو ہم تعاون کرنے والے کیسے ٹھر سکتے ہیں۔ پس ہمارا فرض ہے کہ اپنی نمائندگی کو زیادہ مضبوط کریں۔ اور پورے زور کے ساتھ اپنی آواز افسران بالا تک پہنچائیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ قانون شکنی نہ ہو اور ہمیشہ آئین کا احترام کیا جائے۔ پس ہم نے قانون کے اندر رہتے ہوئے اور حکومت سے تعاون کرتے ہوئے اپنے حقوق حاصل -