انوارالعلوم (جلد 11) — Page 620
انوار العلوم جلد ۶۲۰ فضائل القرآن (۳) no shadow of an objection against it۔ A یعنی ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ قرآن میں کوئی تغیر کیا گیا ہے۔ مسلمانوں میں جب لڑائیاں ہوئی تو وہ ایک ہی قرآن رکھتے تھے۔ اور کسی نے کسی فریق کے قرآن کے خلاف کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اسی طرح لکھتا ہے۔ So for from objecting to Othman's revision, Ali multiplied copies of the edition among other MSS۔ Supposed to have been written by Ali, one is said to have been preserved at Mashhed Ali as late as the fourteenth century, which bore his signature۔ ۸۵ یعنی دوسرے کئی مصنفوں نے بھی قرآن کریم کے جلد سے جلد پھیل جانے اور مختلف لڑنے والے گروہوں کے پاس ہونے کو اس میں تبدیلی ہونے کے لئے ناممکن بتایا ہے ۔ مگر قرآن کریم کو دیکھو اس نے پہلے ہی اس تفصیں سے اس حقیقت کو ظاہر کر دیا تھا کہ وہ خود ایک زبردست نشان ہے۔ قرآن نے بتا دیا تھا کہ یہ بکثرت لکھا جائے گا۔ دور دراز ملکوں میں پھیل جائے گا۔ مسلمانوں میں جنگیں ہونگی اس لئے اسے کوئی بگاڑ نہ سکے گا۔ اور یہ ایسی پختہ دلیلیں ہیں کہ عیسائیوں نے بھی انہیں تسلیم کر لیا حالانکہ یہ باتیں اس وقت بیان ہوئیں جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں تھے اور جب قرآن کے بگڑنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ سَفَرَۃ کے ایک معنی جھاڑو دینے اور پردہ اٹھا دینے کے بھی ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے آیت کے یہ معنی ہونگے کہ اس کتاب کو ایسے لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے جو اس خس و خاشاک کو جو تعلیم قرآن پر پڑ کر اسے مسح کر دینے کا موجب ہو سکتا تھا دور کرتے رہیں گے۔ اور پھر اس کی تعلیم کو اس کی اصلی حالت پر لاتے رہیں گے اور جو اس کے پوشیدہ مطالب کو ظاہر کرتے رہیں گے۔ اور اس کے بلند مطالب کو لوگوں کے سامنے لاکر اس کی قبولیت اور تاثیر کو تازہ کرتے رہا کریں گے جو اس فن کے لوگوں میں حرام ہوں گے۔ یعنی ماہرین فن ہونگے اور بردة ہونگے یعنی امور خیر میں وسیع دسترس رکھنے والے ہونگے ۔ اور اس طرح وہ نہ صرف خود خدمت کریں گے بلکہ اور بہت سے خادم بنا کر چھوڑ جائیں گے۔ لطیفہ یہ ہے کہ اس آیت میں