انوارالعلوم (جلد 11) — Page 618
انوار العلوم جلدا ۶۱۸ فضائل القرآن (۳) تاج محل میں جا کر لگائے تو فورا پکڑا جاتا ہے۔ پس جو لوگ قرآن کریم کی خوبیوں سے ناواقف ہیں وہ تو اس میں کمی بیشی کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے اور جو واقف ہوتے ہیں وہ اس کی خوبصورتی میں دخل نہیں دے سکتے۔ کیونکہ اگر دخل دیں تو فورا ظاہر ہو جائے۔ اس وجہ سے انہیں قرآن کو بگاڑنے کی جرأت ہی نہیں ہوتی۔ پھر خدا تعالٰی نے قرآن کریم کی حفاظت قرآن کریم کی حفاظت کے ظاہری سامان کے ظاہری سامان بھی رکھتے ہیں۔ جس طرح اس کی اندرونی حفاظت کے تین ذرائع بتائے تھے اسی طرح بیرونی حفاظت کے بھی تین ذرائع بیان کئے۔ اول فرمایا بِأَيْدِى سَفَرَةِ - سَفَرَة کے ایک معنی لکھنے والے کے ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہونگے کہ یہ کتاب ایسی قوم کے ہاتھ میں دی گئی ہے کہ جوں جوں یہ نازل ہوتی گئی لکھی جاتی رہی۔ اور جو بات لکھ لی جائے وہ محفوظ ہو جاتی ہے۔ پھر فرمایا۔ یہ کتاب ایسے لکھنے والوں کے سپرد کی گئی ہے جو كِرَامِ بَرَرَةٍ ہیں۔ یعنی معزز لوگ ہیں اور نیک اور پاک ہیں۔ پس مطلب یہ ہوا کہ ہمیشہ مخلص لکھنے والے اسے ملتے رہیں گے جو روپیہ یا لالچ کے سبب سے نہیں لکھیں گے بلکہ بڑے پایہ کے لوگ ہوں گے جو ہر ایک قسم کی عزت رکھتے ہونگے اور اپنے ہم عصروں میں خاص مقام رکھتے ہونگے ۔ وہ لوگ محض نیکی کی خاطر قرآن لکھا کریں گے۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے لوگ جن کی کوئی غرض بگاڑنے سے وابستہ نہ ہو اور ہوں وہ نیک وہ کبھی بگاڑ نہیں سکتے۔ پس اس وجہ سے قرآن کریم کے اس قدر صحیح نسخے دنیا میں پھیل جائیں گے کہ اس میں بگاڑ ہی نا ممکن ہو جائے گا۔ اب دیکھو یہ کتنی زبردست بات ہے اور کس طرح خدا تعالیٰ نے اس کو پورا کیا ہے۔ بڑے بڑے زبردست بادشاہ جو مذہبی علماء نہیں تھے کہ تعلیم قرآنی کے بگاڑنے میں ان کا فائدہ ہو۔ اور پھر مختلف ممالک کے قرآن کریم کے لکھنے کے بوجہ ثواب عادی تھے۔ ہندوستان کے بادشاہوں میں سے اورنگ زیب مشہور ہے جس نے کئی نسخے قرآن کریم کے لکھے ۔ اسی طرح صلیبی جنگوں کے متعلق ایک کتاب حال ہی میں چھپی ہے۔ اس میں اسامہ بن منفذ اپنے والد سلطان شہزاد کے متعلق جو شام کی ایک حکومت کے بادشاہ تھے لکھتا ہے کہ وہ یا تو فرنگیوں سے لڑتے یا شکار کھیلتے اور یا پھر قرآن لکھا کرتے تھے۔ چنانچہ مرتے وقت ان کے لکھے ہوئے ۴۳ قرآن موجود تھے۔ 1