انوارالعلوم (جلد 11) — Page 615
انوار العلوم جلد ۶۱۵ فضائل القرآن (۳) سابقہ میں تحریف اب عملا دیکھ لو پہلی آسمانی کتب کی طرح خراب کر دی گئیں۔ تورات میں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی خود کتب سابقه با حضرت موسیٰ کی موت کا ذکر ہے۔ اسی طرح انجیل میں حضرت مسیح کی موت کا ذکر ہے۔ زند اوشتا کے متعلق خود پارسیوں کا بیان ہے کہ مسلمانوں نے اسے بگاڑ دیا۔ میں کہتا ہوں یہ تو پیچھے دیکھا جائے گا کہ مسلمانوں نے پارسیوں کی آسمانی کتاب میں کیا تصرف کیا لیکن ان کے بیان سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ ان کی کتاب بگڑ چکی ہے۔ ویدوں کی بناوٹ ہی بتاتی ہے کہ وہ بگڑ چکے ہیں۔ وید میں دوسروں کی عورتوں کو اغوا کرنے اور چوری کرنے کے متعلق دعا ئیں سکھائی گئی ہیں۔ اور ایسے منتر موجود ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح چوری کرنی چاہئے کہ چور گھر والوں کو نظر نہ آئے۔ جس کتاب میں چوری اور ادھالے کی دعائیں ہوں وہ کیونکر لمسِ شیطانی" سے محفوظ سمجھی جا سکتی ہے۔ اس قسم کی باتوں سے تو صاف ظاہر ہے کہ شیطان نے ان کتابوں کو چھوا۔ لیکن اس کے مقابلہ میں قرآن نہ صرف دعوی طہارت کرتا ہے بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔ کوئی اسے بگاڑ ہی نہیں سکتا اور اگر کوئی اسے خراب کرنا چاہے گا تو اس پر شُهب گریں گے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں دوسری کتب کو لوگ آئے دن بگاڑتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں بائیبل کے متعلق خود عیسائیوں کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ :۔ بائیبل سوسائٹی نے کمال دور اندیشی سے نئے ترجمہ کی تھوڑی سی جلدیں اس غرض سے شائع کی ہیں کہ اس ترجمہ پر جو اعتراضات موصول ہوں ان کو پیش نظر رکھ کر مناسب تبدیلیاں کر لی جائیں ۔ "Ai اسی طرح انجیل کا ایک حصہ ہی اڑا دیا گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یسوع مسیح کے بیماروں کو اچھا کرنے پر جب یہ اعتراض کیا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ ایک تالاب تھا جس میں نہانے سے بیمار اچھے ہو جاتے تھے۔ تو اب عیسائیوں نے اسے نکال دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی اور کتاب کا حصہ تھا جو غلطی سے انجیل میں درج ہو گیا۔ مگر ہم کہتے ہیں اس سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ شیطان نے انجیل کو مس کیا مگر قرآن کو تو کوئی چھو ہی نہیں سکا۔ آخر وجہ کیا ہے کہ دوسری کتابوں کے ماننے والے قرآن کو بگاڑنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس سے انہیں ڈر کیوں آتا ہے۔ روسی حکومت نے ایک دفعہ چاہا تھا کہ قرآن سے جہاد کی آیتیں نکال دے لیکن ملک میں اتنا شور پڑا کہ حکومت کو مجبور ہو کر اپنے ناپاک ارادہ سے