انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 613

انوار العلوم جلدا ۶۱۲ فضائل القرآن (۳) کیا ہے؟ وہ خدا کا رسول ہے جو ان پر کئی پاکیزہ صحیفوں والی کتاب پڑھتا ہے۔ کئی ایسی تعلیمیں تھیں جو بگڑ گئی تھیں۔ قرآن کریم میں ان کو اصل حالت میں پیش کیا گیا ہے۔ پس چونکہ اب اس میں کتب قیمہ جمع ہو گئی ہیں اس لئے اب یہ کتاب نہیں بگڑ سکتی۔ قسم کی قرآن کے متعلق فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ کہہ کر بتایا کہ پہلی تعلیموں میں دو خرابیاں تھیں۔ ایک وہ خرابی جس کی اصلاح کی ضرورت بوجہ نسخ نہ رہی تھی اسے چھوڑ دیا۔ دوسری وہ خرابی جو ایسی تعلیم میں تھی جو قائم رہنی تھی سوا سے دور کر کے اخذ کر لیا۔ غرض اگر تو کوئی ایسی تعلیم بگڑ گئی تھی جس کی دنیا کو اب ضرورت نہ تھی تو اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور اگر اس تعلیم میں خرابی پیدا ہو گئی تھی جو قائم رہنی چاہئے تھی تو اس خرابی کو دور کر کے صحیح تعلیم کو اخذ کر لیا گیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں نیا آسمان جو قرآن سمائے روحانی حیی و قیوم کی صفات پر بنیاد کے ذریعہ بنا اس کی بنیاد حیی و قیوم کی صفات پر رکھی گئی ہے۔ مختلف انبیاء کے کلام مختلف صفات الہیہ کے ماتحت نازل ہوتے رہے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے ۔ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ یعنی ہر زمانہ : نہ نبوت میں اللہ تعالی کا کلام نئی صفات کے ماتحت نازل ہوتا ہے۔ اس جگہ یوم سے مراد نبوت کا زمانہ ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے - يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمِ كَانَ مِقْدَارُةَ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ کے لیے یعنی اللہ تعالی آسمان سے زمین تک اپنے حکم گو اپنی تدبیر کے مطابق قائم کرے گا اور پھر وہ اس کی طرف ایک ایسے وقت میں چڑھنا شروع کرے گا جس کی مقدار ایسے ہزار سال کی ہے جس کے مطابق تم دنیا میں گفتی کرتے ہو۔ پس یوم سے مراد زمانہ نبوت ہے۔ اور سماء سے قرآن کریم مراد ہے کیونکہ قرآن کریم کا نام صحف مرفوعہ بھی آیا ہے اور سَمَاء بھی بلندی کا نام ہے۔ پس اس روحانی آسمان کو بھی سماء کہہ سکتے ہیں اور اس کے لئے صفت حیی و قیوم کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ثبوت که قرآن حیی و قیوم کی صفات کی بنیاد پر ہے قرآن سے بھی اور حدیث سے بھی ملتا ہے حدیث میں آتا ہے۔ کہ رسول کریم میں ہم سے پوچھا گیا کہ قرآن کریم کی کون سی آیت سب سے بڑی ہے تو آپ نے فرمایا ۔ آیت الکرسی۔ اک اور آیت الكرسی کی بنیاد حیی و قَيُّوم پر ہے۔ یہ روایت ابی بن کعب ابن ابن مسعود ، ابوزر