انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 604

انوار العلوم جلد !! ۶۰۴ فضائل القرآن (۳) ہے۔ مرد جب عورت کے متعلق سمجھتا ہے کہ یہ میرا ہی ٹکڑا ہے تو پھر اس ٹکڑے کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ بعض مردوں عورتوں میں ناچاقی اور لڑائی جھگڑا بھی تو ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی صورت اسی جگہ ہوتی ہے جہاں اصل ٹکڑے آپس میں نہیں ملتے۔ جہاں اصل ٹکڑے ملتے ہیں وہاں نہایت امن اور چین سے زندگی بسر ہوتی ہے اور کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا۔ کئی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ ایک مرد و عورت کی آپس میں ناچاقی رہتی ہے اور آخر طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ لیکن اس مرد کی کسی اور عورت سے اور اس عورت کی کسی اور مرد سے شادی ہو جاتی ہے تو وہ بڑی محبت اور پیار سے زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عورت مرد کا ٹکڑا تو ہے لیکن جب صحیح ٹکڑا الملتا ہے تب امن اور آرام حاصل ہوتا ہے۔ پس مرد عورت کو اپنا ٹکڑا سمجھ کر اس پر رحم کرتا ہے اور اس طرح اسے رحم کرنے کی عادت ہو جاتی ہے اور پھر ہر جگہ اس عادت کو استعمال کرتا ہے۔ وہ لوگ جو ڈاکے ڈالتے اور لوگوں کو قتل کرتے ہیں وہ بھی اگر بیوی بچوں میں رہیں تو رحمدل ہو جاتے ہیں۔ لیکن علیحدہ رہنے کی وجہ سے ان میں بے رحمی کا مادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مجرموں کو جیلوں میں رکھنے کی وجہ سے جرم بڑھ جاتے ہیں کیونکہ وہ علیحدہ رہتے ہیں اور اس طرح سنگ دل ہو جاتے ہیں۔ گویا مرد عورت کے تعلق کے ذریعہ انسان کو رحم کا ایک مدرسہ مل جاتا ہے جس میں تربیت پا کر وہ ترقی کرتا ہے اور خدا کے رحم کو کھینچ لیتا ہے۔ غرض اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ عورت و مرد کا تعلق ایک پر حکمت تعلق ہے۔ اس کو توڑنا انسانیت کو ناقص اور سلوک کو ادھورا کر دیتا ہے اور اسے قائم کرنے سے خدا تعالیٰ کی طرف رغبت میں سهولت پیدا ہوتی ہے نہ کہ روک۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرد و عورت کس عورت کو کھیتی قرار دینے میں حکمت اصل پر تعلق دیکھیں ؟ ہوا اصل پر تعلق رکھیں؟ یورپ کے بعض فلاسفر ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ تربیت اخلاق کیلئے شادی تو ضروری ہے لیکن تعلقات شہوانی مضر ہیں۔ یہ تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی جواب دیا ہے۔ فرمایا ہے ۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لاَ نْفُسِكُمْ ۶۷ تمہاری بیویاں تمہارے لئے بطور کھیتی کے ہیں تم جس طرح چاہو ان میں آؤ۔ اس پر کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب یہ کہا گیا ہے کہ ہم جس طرح چاہیں کریں تو اچھا ہم تو چاہتے ہیں کہ عورتوں سے تعلق نہ رکھیں۔