انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 599

انوار العلوم جلدا ۵۹۹ فضائل القرآن (۳) پھر اس سے بڑا اور آخر میں انسان پیدا کیا گیا۔ چنانچہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا - ۲۰ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خدا کے لئے وقار پسند نہیں کرتے اور تم کہتے ہو کہ خدا جلدی کر دے ۔ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا اللہ تم اپنی پہلی پیدائش کو دیکھو کہ کتنے عرصے میں ہوئی ہے۔ غرض انسان مختلف دوروں کے بعد بنا ہے۔ اور انہی دوروں میں سے حیوانات بھی ہیں۔ پس تمام حیوانات در حقیقت انسانی مرتبہ تک پہنچنے کی سیڑھیاں ہیں ورنہ وہ اپنی ذات میں خود مقصود نہیں۔ اور جو چیز سیڑھیوں پر لے جائی جائے گی وہ راستہ میں بھی گرے گی اس لئے وہ چیزیں جو انسان کی ترقی کیلئے بنی تھیں وہ حیوانوں میں بھی پائی گئیں مگر یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قوت شہوانی جس قدر انسان میں ترقی یافتہ ہے اس قدر حیوانات میں نہیں ہے۔ اور پھر یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قوت شہوانی کا دماغی قابلیتوں سے ایک بہت ہی گہرا تعلق ہے۔ اور بہت سے اعصابی نقصوں اور دماغی نقصوں کا علاج شہوانی غدودوں کے رس ہیں۔ غرض حق یہ ہے کہ شہوانی طاقتوں کے پیدا کرنے والے آلات کا اصل کام اخلاق کی درستی ہے لیکن چونکہ اصل کام کے بعد کچھ بقائے ضرور رہ جاتے ہیں جو بطور زائد سٹیم کے ں سے ہوتے ہیں۔ اگر انہیں نہ نکالا جائے تو انجن کے ٹوٹنے کا ڈر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس۔ دوسرا کام بقائے نسل کا لے لیا۔ اور بجائے نسل انسانی کے چلانے کے کسی اور ذریعہ کے اس ذریعہ کو اختیار کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے دنیا ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھی مگر آہستہ آہستہ سمجھ رہی ہے۔ اور طبی دنیامان رہی ہے کہ قوتِ شہوانی کا دماغی قابلیتوں سے بہت گہرا تعلق ہے اور ان غدودوں سے کام لئے جاتے ہیں۔ چنانچہ یورپ کا ایک ماہر مانتا ہے کہ ان غدودوں میں نقائص کی وجہ سے ہی مایوسی اور کئی دوسرے جسمانی نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایک امریکن مصنف نے سات جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ رسول کریم ملی ایم کے متعلق لکھتا ہے کہ آپ پر کئی شادیاں کرنے کا اعتراض فضول ہے۔ کیونکہ آپ خدا تعالی کے عشق اور اس کے ذکر میں محو رہتے تھے اور ایسے آدمی کی قوتِ رجولیت ساتھ ہی نشو و نما پا جاتی ہے۔ گو اس شخص نے صحیح الفاظ میں حقیقت کو بیان نہیں کیا لیکن حق یہی ہے کہ بقائے دوام کی خواہش کا ذریعہ غدود شهوانیہ ہیں۔ اور بقائے نسل ان کا ایک ضمنی اور ماتحت فعل ہے۔ پس ضروری تھا کہ اس اضطراب کو کم کرنے کیلئے جو خدا تعالیٰ نے غدود شہوانیہ کے ذریعہ سے انسان