انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 32

انوار العلوم جلد !! ذج قادیان میرے ذہن میں ایسی تجاویز تھیں کہ ان پر عمل کرنے سے ہندو اور سکھ صاحبان کی دلجوئی ہو سکتی تھی مگر ان میں سے ایک فریق نے تو دھمکی دی کہ اگر مذبح جاری ہوا تو فساد ہو جائے گا اور چونکہ دھمکی کوئی باغیرت انسان برداشت نہیں کر سکتا اس لئے میں نے بھی کہہ دیا جو فساد کرنا چاہتے ہوں وہ کر کے دیکھ لیں۔ دوسرا فریق ملنے کا وعدہ کر کے نہ آیا۔ اس نے سمجھا وہ زور سے جو چاہے منوا لے گا۔ ورنہ اگر یہ لوگ میرے پاس آتے تو انکا مدعا ان کے اختیار کردہ طریق سے زیادہ بہتر حاصل ہوتا۔ میں نہیں سمجھتا گورنمنٹ کس طرح ایسا ظالمانہ اور خلاف عقل فعل کر سکتی ہے کہ مذبح کو روک دے۔ لیکن اگر وہ ایسا ہی کرے تو بیسیوں طریق ایسے ہیں جن پر عمل کیا جا سکتا ہے اور میں نے معلوم کر لیا ہے کہ ذبیحہ گائے گورنمنٹ کے روکنے سے بھی نہیں رک سکتا اور قانون کے اندر رہ کر اس پر عمل کیا جا سکتا ہے اور مذبح سے بھی زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ پس اگر مذبح کو روک بھی دیا گیا تو ہم قانون کے الفاظ کی تو پابندی کریں گئے مگر اس کی روح کو کچل دیں گے۔ اور خود کئی ہندوؤں نے میری اس چٹھی کے جواب میں جو میں نے شائع کی ہے تسلیم کیا ہے کہ قانون کے ذریعہ اس کا تصفیہ نہیں ہو سکتا اور نہ قانون کے ذریعہ ذبیحہ گائے روکا جا سکتا ہے ایسی باتیں آپس کے سمجھوتہ سے ہی طے ہو سکتی ہیں۔ اور قانون کی نسبت زیادہ عمدگی سے طے ہو سکتی ہیں۔ مگر اس طریق کو چھوڑ کر جبر کا رنگ اختیار کیا گیا اس لئے ہم بھی مجبور ہیں کہ حریت کی روح دکھا ئیں اور اپنا حق حاصل کریں۔ پس ہم اب اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ ہاں غور کرنے کیلئے اب بھی تیار ۔ اب بھی تیار ہیں بشرطیکہ پہلے مذبح قائم کر دیا جائے ۔ جنہوں نے مذبح گرایا ہے وہ پہلے اسے بنا دیں اور پھر میرے پاس آئیں اور مجھ سے بات کریں۔ مذبح کے کھڑے ہونے سے پہلے نہیں۔ اس صورت میں ہم تمام وہ طریق اختیار کریں گے جن سے اپنی عزت قائم کر سکیں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم کسی کے غلام ہو کر رہنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ میں نے بتایا ہے گورنمنٹ کے قانون کی پابندی کرنا ہمارے لئے مذہباً ضروری ہے مگر ایسے رہتے ہیں کہ ان کے ذریعہ اس قانون کی غرض باطل کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ ہماری جماعت کے ایک معزز شخص نے حکومت کے ایک بڑے افسر سے کہہ دیا تھا آپ جو چاہیں کر لیں میں بھی تمہیں حکومت نہیں کرنے دوں گا گائیوں کے پیچھے ہی پھیرا تا رہوں گا۔ تو وہ غلطی کا ازالہ کر کے آئیں۔ میں ہر وہ طریق اختیار کرنے کیلئے تیار ہوں جو ہماری عزت کو قائم رکھ سکتے ، ہماری ضرورت پوری کر سکے اور ان کے احساسات کا خیال رکھا جا سکے ۔ غرض ہم ان کے