انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 591

انوار العلوم جلد ۵۹۱ فضائل القرآن (۳) یہ قدرت دی گئی ہے۔ کیونکہ بعض خوجے ایسے ہیں جو ماں کے پیٹ ہی سے ایسے پیدا ہوئے اور بعض خوبے ایسے ہیں جنہیں آدمیوں نے خوجہ بنایا۔ اور بعض خوجے ایسے ہیں جنہوں نے آسمان کی بادشاہت کے لئے اپنے آپ کو خوجہ بنایا ۔ جو قبول کر سکتا ہے وہ قبول کرے ۔ ۴۶۴ گویا حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ مرد عورت کا تعلق ادنی درجہ کے لوگوں کا کام ہے اگر کوئی اعلیٰ درجہ کا انسان بننا چاہے اور آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونا چاہے تو اسے چاہئے کہ خوجہ بن جائے۔ مطلب یہ کہ اصل نیکی شادی نہ کرنے میں ہے۔ ہاں جو برداشت نہ کر سکے وہ شادی کرلے اس طرح 1 کرنتھیوں بابے میں لکھا ہے:۔ مرد کے لئے اچھا ہے کہ عورت کو نہ چھوٹے لیکن حرام کاریوں کے اندیشے سے ہر مرد اپنی بیوی اور ہر عورت اپنا شوہر رکھے ۔ “ " میں بے بیاہوں اور بیوہ عورتوں کے حق میں یہ کہتا ہوں کہ ان کے لئے ایسا ہی رہنا اچھا ہے جیسا میں ہوں لیکن اگر ضبط نہ کر سکیں تو بیاہ کر لیں۔ ۴۸۴ گویا عورت مرد اگر بن بیا ہے رہیں تو پسندیدہ بات ہے۔ یہود میں یوں تو نہیں لکھا لیکن مرد اور عورت کے تعلقات کے متعلق کوئی صاف حکم بھی نہیں۔ تو رات میں صرف یہ لکھا ہے کہ :۔ خداوند نے آدم پر بھاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا۔ اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پہلی نکالی۔ اور اس کے بدلے گوشت بھر دیا۔ اور خداوند خدا اس پہلی سے جو اس نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر آدم کے پاس لایا اور آدم نے کہا کہ اب یہ میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے۔ اس سبب سے وہ ناری کہلائے گی۔ کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی۔ اس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی جو رو سے ملا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے ۔ ۴۹ ان الفاظ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ عورت چونکہ مرد کی پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔ اس وجہ سے وہ اس سے مل کر ایک بدن ہو جائے گا۔ اور مرد کو طبعاً عورت کی طرف رغبت رہے۔ گی۔ یہ کہ ان کامل کر رہنا اچھا ہو گا یا نہیں اس کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا صرف فطری تعلق کو لیا گیا ہے۔