انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 589

انوار العلوم جلد 1 ۵۸۹ فضائل القرآن (۳) (۲) حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ کہہ کر احسان جتانے کی روح کو بھی کچل دیا اور بتایا کہ جن کو صدقہ دیا جاتا ہے ان کا بھی دینے والے کے مال میں حق ہے۔ (۳) لیکن چونکہ ہر ایک اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا اس لئے ظاہری احکام بھی دے دیئے۔ چنانچہ فرمایا ۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوَالاَ تُبْطِلُوا صَدَ قُتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى ٢٣ اے مومنو! صدقات کو احسان جتا کر یا دوسروں سے خدمت لے کر ضائع نہ کرو۔ (۴) پھر ایک اور پہلو اختیار کیا جس سے احسان کا کچھ بھی باقی نہ رکھا۔ فرمایا۔ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبُوا وَيُرْبِي الصَّدَقْتِ ۴ اللہ تعالیٰ سود کو مٹائے گا اور صدقات دینے والوں کے مال کو بڑھائے گا۔ اس میں بتایا کہ صدقہ دینے والوں کو ہم خود بدلہ دیں گے ۔ بیان کی کہ جہاں صدقات صدقات پر زور لیکن سوال کی ممانعت چودھویں بات یہ بیان دینے پر اسلام نے زور دیا وہاں چونکہ یہ خیال ہو سکتا تھا کہ مانگنا اچھی بات ہے اس لئے اس کی بھی تشریح کر دی۔ چنانچہ مومن کی شان تائی کہ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمْهُمْ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافَاً ۴۵ یعنی جو شخص اس تعلیم سے واقف نہیں کہ اسلام سوال کو پسند نہیں کرتا وہ ایسے لوگوں کو سوال سے بچنے کی وجہ سے غنی خیال کرتا ہے۔ لیکن جو اس سے واقف ہے ۔ وہ لوگوں کی شکلوں سے تاڑ لیتا ہے اور ان کی مدد کر دیتا ہے۔ اس میں بتایا کہ کامل مومن کو سوال نہیں کرنا چاہئے مگر منع بھی نہیں کیا۔ یعنی مانگنا قطعی حرام نہیں کیونکہ بعض دفعہ انسان اس کے لئے مجبور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم میں یم کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا ۔ اور اس نے عرض کیا مجھے کچھ دیں۔ آپ نے دیا۔ اس نے پھر مانگا۔ آپ نے پھر دیا۔ اس نے پھر مانگا آپ نے پھر دیا۔ پھر آپ نے فرمایا۔ میں تمہیں ایک بات بتاؤں ؟ اور وہ یہ کہ مانگنا اچھا نہیں ہوتا۔ اس نے اقرار کیا کہ آج کے بعد میں کسی سے نہیں مانگوں گا۔ ایک صحابی" کہتے ہیں ایک جنگ کے دوران اس کا کوڑا گر گیا۔ دوسرا شخص اٹھا کر دینے لگا تو اس نے کہا تم نہ دو۔ میں نے رسول اللہ صلی ا ہم سے عہد کیا ہوا ہے کہ میں کسی سے کچھ نہیں لوں گا۔ اس پر وہ خود اترا اور کوڑا اٹھایا ۔ تو جہاں اسلام نے صدقات پر اتنا زور دیا ہے کہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیوں نہ لیں۔ وہاں یہ بھی بتا دیا کہ مانگنا نہیں چاہئے ۔ یہ بات دینے والے پر رکھو کہ وہ تلاش کر کے دے۔