انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 581

انوار العلوم جلد ۵۸۱ فضائل القرآن (۳) جاواں۔ میں واری جاواں" حالانکہ وہ بچہ کو کھانے کے لئے دیتی ہے نہ کہ اس سے کچھ لیتی ہے۔ تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ تمہارا وہ درجہ ہونا چاہئے کہ تم دے کر یہ سمجھو کہ لینے والوں نے ہم پر احسان کیا ہے نہ کہ تم نے ان پر کوئی احسان کیا ہے۔ چھٹے اسلام نے صدقہ دینے کی غرض بیان کی ہے۔ ایک غرض صدقات کی غرض و غایت تو اسی آیت میں آئی ہے جو میں نے ابھی پڑھی ہے یعنی أتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ جو شخص مال دے اس کی محبت کی وجہ محبت کی وجہ سے دے۔ دمنی سے سے نہ دے کسی کی عادات بگاڑنے کے لئے نہ دے بلکہ اس لئے دے کہ اچھے کاموں میں لگے۔ جسے دیا جائے اسے فائدہ ہو۔ ایسی حالت نہ ہو جائے کہ مال لینے کی وجہ سے اسے نقصان پہنچے۔ ساتویں اسلام نے صدقہ نہ دینے کے مواقع بھی صدقات سے معذوری کے اصول بیان کئے ہیں۔ یعنی بتایا ہے کہ فلاں مواقع پر صدقہ نہ دو۔ یا تم صدقہ نہ دینے میں معذور ہو۔ جیسے فرمایا - وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوهَا فَقُل لَّهُمْ قَوْلاً مَّيْسُورًا ۳۳، اس آیت میں تین مواقع بتائے کہ ان میں صدقہ نہ دینے میں حرج نہیں۔ اول جب کہ تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ جب تم خود تکلیف میں ہونے کی وجہ سے اپنے رب کی رحمت کے محتاج ہو ۔ روم۔ جب تمہارا دل تو چاہتا ہو کہ صدقہ دو اور دینے کے لئے مال بھی تمہارے پاس موجود ہو۔ لیکن عقل کہتی ہو کہ اگر مال دونگا تو خدا کا غضب نازل ہوگا اور اگر نہ دونگا تو خدا کی رحمت کا نزول ہوگا ۔ اِمَّا تُعْرِ ضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ تَرْجُوْهَا - بخل سے نہیں بلکہ یہ خیال ہو کہ نہ دونگا تو خدا کا فضل نازل ہو گا ایسی صورت میں صدقہ نہ دینا اچھا ہے۔ مثلاً کوئی شخص عیاشی میں روپیہ برباد کر دیتا ہو تو اسے نہ دینا ہی رضائے الہی کا موجب ہو گا۔ یا ایک شخص آئے اور آکر کہے کہ مجھے اسلام کے خلاف ایک کتاب لکھنے کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے اس میں چندہ دیجئے تو اس سے اعراض کرنے والا یقینا اللہ تعالیٰ کے فضل کی جستجو میں انکار کرے گا۔ اب ایک اور مثال دیتا ہوں اس بات کی کہ انسان کا دل تو چاہتا ہے کہ دے مگر ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ نہیں دیتا۔ ایک بچہ ہے جو ہماری تربیت کے نیچے ہے وہ کسی چیز کی خواہش کرتا ہے۔ وہ خواہش ہم پوری بھی کر سکتے ہیں وہ بڑی بھی نہیں ہوتی مگر ہم سمجھتے ہیں اس کی تربیت کے لحاظ سے یہ بُرا اثر ڈالے گی۔ اس لئے اسے پورا نہیں کرتے۔