انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 579

انوار العلوم جلدا ۵۷۹ فضائل القرآن (۳) کی ہے۔ بے شک جو محنت و مشقت کر کے اس سے کماتا ہے اس کا زیادہ حق ہے مگر پراپرٹی میں حصہ رکھنے والے کا بھی تو حق ہوتا ہے۔ جو محنت کرتا ہے اس کا زیادہ حق ہوتا ہے۔ لیکن جس چیز میں محنت کرتا ہے وہ چونکہ مشترک ہے اس لئے اس کے لینے میں وہ بھی شریک ہے جس کی اس میں شراکت ہے۔ یہ حق صدقہ اور زکوۃ کے ذریعہ ادا کیا جاتا ہے۔ اب دیکھو یہ نکتہ بیان کر کے کس طرح امراء اور دولت مندوں کا تکبر تو ڑا گیا ہے۔ جب غرباء کا بھی امراء کے مال و دولت میں حق ہے تو اگر کوئی امیر ان کو دیتا ہے تو ان کا حق ادا کرتا ہے نہ کہ ان پر احسان کرتا ہے۔ ادھر غرباء اور محتاجوں کو شرمندگی سے یہ کہہ کر بچالیا کہ مالداروں کے مال میں تمہارا بھی حق ہے۔ ہم نے ان کو ساری رقم دے کر ان کا فرض مقرر کر دیا ہے کہ ہمارے محتاج بندوں کو بھی دیں ساری کی ساری کمائی خود ہی نہ کھا جائیں۔ پانچواں پہلو صدقات کے متعلق اسلام نے یہ بیان کیا کہ صدقہ کے صدقہ کے محرکات محرکات کیا ہونے چاہئیں؟ محرکات کے ذریعہ ایک اعلی درجہ کی چیز بھی بری ہو جاتی ہے۔ مثلاً ہمارے ہاں کوئی مہمان آئے اور ہم اس کی خاطر اس لئے کریں کہ اس سے ہمیں فلاں فائدہ حاصل ہو جائے گا تو خواہ ہم کتنی خاطر کریں اس میں اپنی ذاتی غرض پنہاں ہو گی۔ لیکن اگر ہم مہمان کی تواضع اس لئے کریں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے تو یہ اعلیٰ درجہ کی نیکی ہو گی۔ پس بُڑے محرکات کے ذریعہ ایک چیز ادنی ہو جاتی ہے اور اگر اچھے محرکات ہوں تو اعلیٰ ہو جاتی ہے۔ یہود میں صدقہ کی غرض رحم بتائی گئی ہے۔ یہ ایک لحاظ سے تو اچھی ہے مگر اس میں نقص بھی ہے۔ اسلام نے محرکات کے متعلق بھی بحث کی ہے۔ اور بتایا ہے کہ مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ ا یہاں صدقہ کی دو اغراض بتائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اِبْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ محض یہ غرض ہو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو دوسری یہ کہ تَثْبِيتاً مِّنْ اَنْفُسِهِمْ کبھی یہ غرض ہو کہ اپنی قوم مضبوط ہو جائے۔ پس اسلام کے نزدیک صدقہ کی دو ہی اغراض ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالی راضی ہو جائے اور دوسری یہ کہ غرباء کی مدد اپنی مدد ہوتی ہے۔ جس قوم کے افراد گرے ہوئے ہونگے وہ قوم بھی کمزور ہو جائیگی۔ کیونکہ مرے ہوئے افراد اس کے لئے بوجھ ہونگے اور نہ کر سکے لئے قومیں سے کوئی محض اور قوم ترقی نہ کر سکے گی۔ اسی لئے یورپین قو میں بھی جنہیں خدا سے کوئی تعلق نہیں محض اس لئے صدقہ و خیرات کرتی ہیں کہ قوم کے غرباء کی ترقی سے قوم بڑھتی اور ترقی کرتی ہے۔ پس