انوارالعلوم (جلد 11) — Page 566
انوار العلوم جلد !! ۵۶۶ فضائل القرآن (۳) اول جو کچھ تمہارے پاس ہو سارے کا سارا دے دو۔ دوم جب خیرات دو تو ایسی پوشیدگی سے دو کہ تمہارے اپنے ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو۔ یعنی قریب ترین رشتہ داروں یا ماتحتوں یا افسروں کو بھی پتہ نہ لگے۔ یہ دونوں تعلیمیں بظاہر بڑی خوبصورت نظر آتی ہیں کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ سارے کا سارا خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دو ۔ گو یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اگر ہر ایک کے پاس جو کچھ ہو وہ دے دے گا تو پھر لے گا کون۔ یہ تو ویسی ہی بات ہوگی جیسے ملانوں نے ایک رسم اسقاط بنائی ہوئی ہے۔ چند آدمی حلقہ باندھ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص ہاتھ میں قرآن لے کر دوسرے کو دیتا ہوا کرتا ہے۔ یہ میں نے تجھے بخشا اور وہ لے کر اگلے کو یہی الفاظ کہتا ہے۔ اس طرح پھرتا پھرا تا وہ قرآن پھر پہلے ہی کے پاس آجاتا ہے۔ پس انجیل کی اس تعلیم کی اگر تفصیل میں جائیں اور یہ فرض کر لیں کہ ساری دنیا اس پر عمل کرنے لگ جائے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ زید کا مال زید ہی کے پاس لوٹ کر آجائے گا۔ پس یہ تعلیم عمل کے قابل ہی نہیں ہے۔ عمل کے قابل تعلیم وہی ہو سکتی ہے جس پر ہر حالت میں عمل کیا جا سکے ۔ اسی طرح یہ جو حکم ہے کہ :۔ جب تو خیرات کرے تو جو تیرا داہنا ہاتھ کرتا ہے اسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے۔" یہ حکم بھی بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے مگر عملی طور پر اس سے بھی فائدہ کی بجائے نقصان کا زیادہ احتمال ہے۔ مثلاً ایک باپ اور بیٹا کہیں جا رہے ہیں۔ انہیں ایک ایسا محتاج مل گیا جو بھوک کے مارے بیتاب ہو رہا ہے۔ اسے دیکھ کر باپ اسے کچھ دینا چاہتا ہے لیکن بیٹے کے ساتھ ہونے کی وجہ سے دے نہیں سکتا۔ کیونکہ انجیل کی تعلیم یہ ہے کہ جو تیرا داہنا ہاتھ خیرات کرتا ہے اسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے۔ اب وہ کیا کرے۔ وہ بیٹے کو علیحدہ کرنے کیلئے ادھر اُدھر بھیجتا ہے تاکہ اس کی عدم موجودگی میں محتاج کو کچھ دے سکے مگر بیٹا سمجھتا ہے یہ اپنا نجل چھپانے کیلئے مجھے علیحدہ کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ اس سے الگ نہیں ہوتا اور محتاج انسان بغیر امداد کے رہ جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کا ایک یہ بھی نتیجہ ہو گا کہ نیکی مفقود ہو جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر نقل کرتے ہیں اور خاص طور پر بیٹا اپنے باپ سے پ سے بہت کچھ سیکھتا۔ یکھتا ہے۔ ایسی حالت میں کئی بیٹے ایسے ہونگے جو کہیں گے کہ ہمارا باپ بڑا سنگ دل اور بے رحم ہے۔ اور بہت سے بیٹے باپ کی اس حرکت کو دیکھ کر خود بخیل ہو جائیں گے۔ کئی ایسے ہونگے جو کہیں گے کہ