انوارالعلوم (جلد 11) — Page 561
انوار العلوم جلد ) ۵۶۱ فضائل القرآن (۳) سکتا ہے۔ سیالکوٹ میں چار پانچ احمدیوں کی فرمیں ہیں۔ اس لئے اس سال کے لئے ہم یہ کام اختیار کر سکتے ہیں کہ تمام وہ احمدی جو صاحبِ رسوخ ہوں، سکولوں لوں میں ہیڈ ماسٹریا ماسٹر ہوں" کھیلوں کی کلبوں سے تعلق رکھتے ہوں ، کھیلوں کے سامان کی تجارت کرتے ہوں یا ایسے لوگوں سے راہ و رسم رکھتے ہوں۔ وہ یہ مد نظر رکھیں کہ جتنا کھیلوں کا سامان منگوایا جائے وہ سیالکوٹ کی احمدی فرموں سے منگوایا جائے۔ میں ان فرموں کے مالکوں سے بھی کہوں گا کہ وہ سارے مل کر ایک مال فروخت کرنے والی کمیٹی بنالیں۔ جس کے صرف وہی حصہ دار ہوں جو یہ کاروبار کرتے ہیں تاکہ سب کو حصہ رسدی منافع مل سکے۔ اس وقت میں صرف یہ تحریک کرتا ہوں۔ جب تاجر ایسی کمیٹی قائم کر لیں گے ، اس وقت اخبار میں میں اعلان کر دونگا کہ اس کمپنی کے مال کو فروخت کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح ایک دو سال میں پتہ لگ جائے گا کہ کس قدر فائدہ ہو سکتا ہے اور اگر ان لوگوں نے کوئی ترقی کی تو وہ ہماری جماعت ہی کی ترقی ہوگی۔ اسی طرح ایک کمپنی تعاون باہمی کے اصول پر ایک کمپنی قائم کرنے کی تجویز تعاون کرنیوالی قائم کرنی چاہئے جس میں تاجر زمیندار اور دوسرے لوگ بھی شامل ہوں۔ میں نے اس کے لئے کچھ قواعد تجویز کئے تھے جنہیں قانونی لحاظ سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے پسند کیا تھا۔ اب ان کو شائع کر دیا جائے گا۔ یہ اس قسم کی کمپنی ہوگی کہ اس میں شامل ہونے والے ہر ایک ممبر کے لئے ایک رقم مقرر کر دی جائے گی جو ماہوار داخل کراتا رہے۔ اس طرح جو روپیہ جمع ہو گا اُس سے رہن با قبضہ جائیداد خریدی جائے گی۔ اعلیٰ پیمانہ پر تجارت کرنا چونکہ احمدی نہیں جانتے اس لئے اس میں روپیہ نہیں لگایا جائے گا بلکہ رہن با قبضہ جائیداد خرید لی جائے گی۔ جیسا کہ انجمن کے کارکنان کے پراویڈنٹ فنڈ کے متعلق کیا جاتا ہے۔ اس طرح جو نفع حاصل ہو گا اس کا نصف یا تکث اس ممبر کے وارثوں کو دیا جائے گا۔ جو فوت ہو جائے اور اس کی جمع کردہ رقم بھی اس کے وارثوں کا حق ہوگی۔ میں فی الحال اس سکیم کا مختصر الفاظ میں اعلان کر دیتا چاہتا ہوں۔ پھر مشورہ کر کے مفصل سکیم اخبار میں شائع کر دی جائے گی۔ دوست اس کے لئے تیاری کر رکھیں۔ اب میں وہ مضمون شروع کرتا ہوں جسے میں نے اس سال کے منتخب کیا ہے۔