انوارالعلوم (جلد 11) — Page 548
انوار العلوم جلدا ۵۴۸ بعض اہم اور ضروری امور مولوی صاحب کی تحریر میں ایک اور بھی لطیفہ ہے۔ وہ کوئی اردو تفسیر پاس نہ ہو گی ایک طرف تو یہ لکھتے ہیں کہ اور کوئی کتاب پاس نہ ہو جس سے مراد ان کی تفاسیر ہیں اور دوسری طرف یہ شرط لگاتے ہیں کہ صرف سادہ یعنی بے ترجمہ قرآن ہو۔ گویا ان کے نزدیک اگر میرے پاس سادہ قرآن ہوا تو میں کچھ نہ لکھ سکوں گا۔ کیونکہ قرآن کریم عربی میں ہے اور میں عربی نہیں جانتا۔ لیکن ساتھ ہی ان کے خیال میں میرے پاس رازی کی تفسیر نہیں ہونی چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ میں اس کے مطالب چرالوں۔ مولوی صاحب کی اس بات سے ظاہر ہے کہ جب خدا کسی کی عقل مار دیتا ہے تو وہ عام بیوقوفوں سے بھی بد تر ہو جاتا ہے۔ کیا کوئی شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ جو شخص قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتا وہ رازی اور ابن حیان کے مطالب کو سمجھ لے گا اور ان کی تفاسیر سے مضمون چرا لے گا۔ اگر مولوی صاحب کی عقل میں یہ بات آگئی ہے تو گو یہ انتہائی درجہ کی احمقانہ بات ہے میں یہ شرط اپنے چیلنج میں اور بڑھا دیتا ہوں کہ کوئی اردو کی کتاب نہ رکھنی ہوگی اور نہ ترجمہ والا قرآن ہو گا۔ جب ان کا یہ خیال ہے کہ میں قرآن کریم بھی بغیر ترجمہ دیکھے نہیں سمجھ سکتا تو یہ ظاہر ہے کہ عربی کتب کی موجودگی سے صرف مولوی صاحب کو ہی فائدہ پہنچے گا میں تو ان سے فائدہ حاصل کر ہی نہیں سکتا۔ باقی رہیں ان کی شرائط سو وہ ایک علیحدہ چیلنج ہیں اگر مولوی صاحب سمجھتے ہیں کہ وہ معقول ہیں اور ان سے کسی کا مؤید من اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ انہیں بطور چیلنج کے شائع کر کے دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ذلت کے اس وقت سامان کرتا ہے یا نہیں۔ اگر انہیں عربی دانی کا دعوی ہے تو اعلان کر دیں کہ خدا تعالی اس میں ان کی مدد کرے گا کوئی آئے اور مقابلہ کرلے۔ پھر ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے ہی ان کے اس چیلنج کو منظور کرنے کی توفیق عطا کر دے۔ مگر اب تو میرا چیلنج ہے کہ قرآن کریم کی پیشگوئی کے ماتحت جو جماعتیں راستی پر ہوں ان پر معارف قرآنیہ خاص طور پر کھولے جاتے ہیں۔ پس کوئی مخالف احمد بیت خواہ عرب کا ہو، خواہ مصر کا ہو، خواہ شام کا ہو، خواہ ہندوستان کا میرے مقابلہ پر قرعہ ۔ پر قرعہ سے تین رکوع قرآن کریم کے چن کر تین دن میں تفسیر لکھ دے۔ اللہ تعالیٰ مجھے ضرور ایسے مطالب سمجھائے گا جو حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی جماعت سے باہر نہیں ملیں گے اور جو علوم عربیہ کے مخالف نہیں ہونگے انہیں جس امر میں دعوئی ہو اسے وہ الگ شائع کر دیں۔ غرض اگر انہوں نے میرا چیلنج منظور کر لیا ہے تو آئیں معارف لکھیں ان کا خرچ ہم دیں