انوارالعلوم (جلد 11) — Page 522
انوار العلوم جلد ۵۲۲ مستورات سے خطاب طرح پڑھنے اور پڑھانے والے دونوں کو اس فرض کا احساس رہتا ہے اور غرض بھی پوری ہوتی ہے۔ اکٹھا رہ کر یہ احساس نا ممکن ہے پس عَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کا یہ مطلب ہوا کہ ہم نے تعلیم کے تمام پہلوؤں یا شعبوں کو مکمل کرنے کے لئے خلیفہ بنایا کہ تاوہ اس طرح لوگوں کو علیحدہ کر کے تعلیم دے اور خدا تعالیٰ کی صفتوں کا علم مخلوق کو دے ۔ پس یہ علیحدگی زحمت نہیں رحمت ہے۔ روحانی بیماروں سے علیحدگی کے بغیر خدا کو پالینا تمہارے لئے ناممکن تھا۔ اب علیحدہ ہو کر تم نے خدا کو پا لیا۔ تو یہ تم کو نہایت بیش قیمت نعمت مل گئی جس کا جتنا شکر کرو تھوڑا ہے نہ کہ اُلٹا ان اقرباء کی جدائیوں پر گھبراؤ یا لغرش دکھاؤ۔ میں مکرر نصیحت کرتا ہوں کہ ان رشتہ داروں سے جن کا روحانی طور پر تم سے قطع تعلق ہو چکا رشتہ داریاں قائم نہ کرو۔ ان کے جنازوں وغیرہ میں شرکت نہ کرو۔ اپنے آپ کا آپ کو ان تعلقات کی وجہ بات کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے عذاب کے مورونہ بناؤ ۔ اب اس کے بعد میں خدا تعالیٰ کے علم کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ بہت عورتیں سمجھتی ہوں گی کہ ہمیں خدا کا علم سب سے ضروری چیز خدا کا علم ا کا علم ہے اہے ہے۔ مگر نہیں وہ خدا کو نہیں جانتیں۔ اگر جانتیں تو اس پر پورا پورا ایمان ہوتا۔ نہ جاننے کے سبب سے ہی عورتیں جھٹ ہر کام اور ہر انجام پر تقدیر کو لے بیٹھتی ہیں۔ یہ ثبوت ہے خدا کا علم نہ ہونے کا اور اس کی صفات سے بے خبری کا۔ یاد رکھو یہ تمہارا تقدیر کا مسئلہ غلط ہے۔ اپنی کوتاہیوں کے صلہ میں جو بدانجا میاں ظاہر ہوتی ہیں ان کا نام تم تقدیر رکھ کر خدا تعالیٰ پر الزام رکھتی ہو۔ یہ نہیں خیال کرتیں کہ خدا جو اتنا بڑا زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اس کو کیا ضرورت ہے کہ تم میں سے کسی کو دکھ دے کسی کو سکھ ۔ کسی کو رُلائے کسی کو ہنسائے اس کا اس میں کیا فائدہ ہے۔ کیا کوئی ماں پسند کرتی ہے کہ ایک بیٹا جئے ایک مر جائے۔ ایک اندھا ہو ایک سو جاکھا۔ ایک بیمار ہو ایک تندرست؟ یہ جاہلانہ خیال ہے۔ ہماری قوم کی بہت سی تباہی یہی تقدیر کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کے طفیل ہماری کوششیں ضائع ہو گئیں ۔ ہماری محنتیں برباد ہو گئیں اور ہماری تمام سرگرمیاں بے ثمر رہ گئیں۔ تم خوب یاد رکھو کہ یہ تقدیری مسئلہ بالکل غلط ہے۔ اللہ تعالی نے قانون بنائے ہیں جو ان پر سیدھے چلے انہوں نے کامیابی پائی جو اُلٹے چلے وہ ناکام رہ گئے۔ مثلاً یہی جلسہ ہے جس میں کئی پیچھے بیٹھی ہیں کئی آگے۔ لیکن کیا اس طرح ان کو خدا نے بٹھلایا ہے ؟ مانا کہ منتظمات کا بھی ایک حد تک اس میں دخل ہو گا مگر پھر بھی پہلے اور پیچھے کا فرق ضرور ہے۔ پہلے آنے والی کو