انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 520

انوارالعلوم جلدا ۵۲۰ مستورات سے خطاب تم استقلال کو ہاتھ سے نہ دو۔ یہ مت سمجھو کہ خدا تمہیں ہمیشہ کے لئے جدا ہی رکھے گا۔ نہیں ہرگز نہیں۔ وہ تمہیں ملائے گا اور دائمی طور پر ملائے گا۔ وہ تمہارا استقلال دیکھتا ہے۔ پس اپنے تعلقات خدا کے لئے قطع کرو اور راضی برضاء ہو۔ تا تمہارے رشتہ دار بھی تم سے بالآخر دائمی مل جائیں۔ میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ کبڑی ہو رہی ہے احمدی اور غیر احمد کی دو پارٹیاں ہیں۔ احمدیوں کی پارٹی فریق مخالف کو پکڑ پکڑ کر لا رہی ہے یہاں تک کہ سب ختم ہو گئے۔ فریق مخالف میں سے صرف ایک بڑا سا آدمی رہ گیا جو دیوار کے ساتھ لگ کر رینگتا ہوا آخر احمدیوں میں مل کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ جب سارے ادھر آگئے تو میں تنہا اُدھر کیا کروں۔ اس میں تمہارے لئے سبق ہے کہ اللہ تعالی کا اٹل فیصلہ ہے کہ وہ تمہارے رشتہ داروں کو تم سے ملائے گا۔ لیکن اگر تم خود اس کے فیصلوں کو توڑ کر یہ قرابتیں قائم کرو تو یاد رکھو کہ ہمیشہ کے لئے وہ تم سے دور کئے جائیں گے کیونکہ تمہارا یہ فعل خدا تعالی کی مرضی کے خلاف ہو گا۔ پس اس کی ناراضگی ہمیشہ کے لئے تمہیں جُدا کر دے گی۔ حضرت عمرؓ کے متعلق آیا ہے کہ وہ آنحضرت مالی اسلام کے سخت مخالف تھے اتنے سخت کہ ایک مرتبہ اپنی ایک لونڈی کو محض اسلام لانے کی وجہ سے اتنا مارا کہ اس کی آنکھیں ضائع ہو گئیں اور ایک دفعہ جب آنحضرت میں ایم کو مارنے کا کفار نے منصوبہ کیا تو آپ نے اس بیڑے کو اٹھانے کا تہیہ کیا۔ کسی نے آپ کا ارادہ معلوم کر کے کہا کہ پہلے گھر کی خبر تو لو تمہاری بہن اور بہنوئی بھی تو محمد" کے حلقہ بگوش ہیں۔ اس وقت بہن کے گھر گئے۔ بہن بہنوئی ایک صحابی سے قرآن شریف سن رہے تھے۔ قرآن چھپا دیا گیا۔ عمر نے ان سے دریافت کرنے کے بعد اپنے بہنوئی پر تلوار کا حملہ کیا۔ بہن آڑے آگئی اور زخمی ہو گئی۔ عورت کو مارنا چونکہ بزدلی کی علامت سمجھی جاتی ہے عمر شرمندہ ہو گئے۔ بہن کا خون بہتا دیکھ کر اس ندامت کو مٹانے کے لئے پوچھا بتاؤ تو کیا پڑھ رہے تھے۔ بہنوئی نے چاہا کہ قرآن شریف دکھائیں مگر بہن نے جوش سے کہا تو ناپاک ہے وہ مقدس کتاب کیونکر تجھے دکھائی جاسکتی ہے۔ عمر چونکہ اپنے فعل اور بہن کی قوتِ ایمانی سے بے حد متاثر ہو چکے تھے نرم ہو گئے اور جھٹ ایمان لے آئے ۔ آگے یہ اس لئے کہ عورت نے تہیہ کر لیا تھا کہ اپنے اس معزز بھائی کو قطعی چھوڑ دیں گے مگر اس مقدس دین کو نہ چھوڑیں گے ۔ پس ان کے اس استقلال پر اللہ تعالٰی نے عمرؓ کے دل کو نرم کر دیا ۔ وہ