انوارالعلوم (جلد 11) — Page 513
انوار العلوم جلدا ۵۱۳ افتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۰ء خدا تعالی کا الہام ہے لا نُبْقِي لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا ٣ کہ ہم تیرے لئے رسوائی والی کوئی بات باقی نہ چھوڑیں گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مخالفین کی طرف سے ایک بہت بڑا اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کے سلسلہ میں شامل نہیں۔ مخالف کہتے اگر مرزا صاحب بچے ہوتے تو ان کا اپنا بیٹا کیوں نہ انہیں مانتا۔ اگرچہ یہ کوئی ایسا اعتراض نہیں جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر حرف آ سکتا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بھی ان کو نہ مانا تھا اس سے حضرت نوح علیہ السلام کی صداقت باطل نہیں قرار دی جا سکتی۔ پس مخالفین کا یہ اعتراض محض جہالت اور نادانی کی وجہ سے تھا لیکن اللہ تعالٰی نے اسے بھی دور کر دیا اور ایسے لوگوں کا منہ بند کر دیا چنانچہ کل مرزا سلطان احمد صاحب میری بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے اور اس طرح بھی دشمن کا منہ بند ہو گیا۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی بیٹا آپ کی جماعت میں داخل نہیں اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی ساری کی ساری اولاد احمدیت میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پر تمام مجمع نے نہایت بلند آواز سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے حضور مبارکباد پیش کی۔ اور حضور نے خیر مبارک " کہا) ایک بات کا ذکر کرنا میں اپنی تقریر میں بھول گیا تھا اور وہ یہ کہ پچھلے ہفتہ دو دفعہ میں نے دو رویا دیکھے ہیں۔ جن میں ایسے نظارے دکھائے گئے جو مخفی ابتلاء کا پتہ دیتے ہیں۔ ایک رویا تو میں نے آج سے پانچ دن قبل دیکھا۔ ایک پرسوں۔ میں ان کی تشریح نہیں کرتا۔ یہ منع ہے کیونکہ منذر رویا کا بیان کرنا بعض اوقات اس کے پورا کرنے کا موجب ہو جاتا ہے لیکن اتنا بتا دیتا ہوں تاکہ دوستوں کی توجہ دعا کی طرف ہو کہ ایک حملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام پر کیا گیا اور ایک مجھ پر ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے مبرم تقدیر بھی مل جایا کرتی ہے۔ احباب دعا کریں کہ اللہ تعالٰی اپنے فضل اور رح اور رحم سے ہر قسم کی مشکلات دور فرمائے اور ہر قسم کے ابتلاؤں سے جماعت کو محفوظ رکھے تاکہ ہم عمدگی اور آسانی سے اس کے سلسلہ کی خدمت کر سکیں۔ صميم الم بنی اسرئيل : ۸۹ تذکره صفحه ۵۳۸- ایڈیشن چهارم (الفضل حکیم جنوری ۱۹۳۱ء)