انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 492

انوار العلوم جلد) ۴۹۲ باب دہم متفرق ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل میں نے مالی امور کے متعلق کچھ نہیں لکھا اور نہ اس مضمون کی مجھے اس قدر واقفیت ہے۔ لیکن صوبہ جات اور مرکزی خزانوں کی تقسیم میں یہ در امور مد نظر رکھنے ضروری ہیں :۔ (1) علمی اور تمدنی ترقی کے تمام کام صوبہ جات کے اختیار میں ہوں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اموال کی تقسیم ایسی ہو کہ صوبہ جات ان اہم محکموں میں ترقی کر سکیں، ورنہ حکومت کے جو اصل مطلوب امر ہیں وہ بغیر کافی توجہ کے رہ جائیں گے ۔ (۲) صوبہ جات کو اپنے اعتبار پر قرض لینے کی اجازت ہونی چاہئے گو یہ شرط ہو جائے کہ ہر صوبہ صرف اپنے علاقے کے اندر قرض لے سکتا ہے۔ بیرون ہند کی منڈی سے یا دوسرے صوبوں سے بغیر اجازت مرکز قرض نہ لے تا کہ ناجائز مقابلہ نہ ہو۔ اس قسم کی اجازت دینے سے مرکز سے مقابلہ کی صورت پیدا ہونے کا ہرگز احتمال نہیں کیونکہ اول تو بڑے بڑے مالداروں کے تعلقات مرکزی حکومت کے ساتھ ہی ہوں گے کیونکہ بڑا گاہگ لوگوں کی توجہ کو زیادہ کھینچتا ہے ، دوسرے ہندوستان سے باہر کی منڈیاں اسی کے اختیار میں رہیں گی۔ (۳) جن صیغوں کی آمد صوبہ جات کے اخراجات کی وجہ سے بڑھے ان کی آمد کی ترقی میں صوبہ جات کو بھی حصہ دار مقرر کیا جائے ورنہ آزادی کے حصول کے بعد تو مرکزی حکومت انہیں مجبور نہ کر سکے گی۔ پس وہ ان صیغوں کی طرف کم توجہ دیں گے اور مرکز کے مالیات کو نقصان پہنچے گا یا کم سے کم آپس کے تعلقات کشیدہ ہوں گے ۔ اب ایک اور بات ہے جس کے متعلق میں کچھ کچھ کہنا کہنا؟ چاہتا ہوں اور وہ مرکزی مر حکومت اور سیکرٹری آف سٹیٹ کا تعلق ہے۔ میرے نزدیک وزیر ہند کی کونسل کو تو فورا منسوخ کر دینا ۔