انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 470

انوار العلوم جلد !! ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل فیصلہ کی تائید کریں تو پھر بہر حال اس کا اجراء کیا جائے ۔ (۳) چونکہ یہ امر بھی ضروری ہے کہ ملکی عصر کو حکومت کے طریق سے آگاہ کیا جائے اور ایک حد تک اس کا اثر ایگزیکٹو پر بھی ہو ۔ دوسری طرف یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈائی آر کی (DIARCHY) کی موجودہ صورت کو جو فی الواقع مصر ہے دور کیا جائے اس لئے میرے نزدیک ایک درمیانی تجویز یہ مناسب ہوگی کہ ہر انتخاب کے بعد اسمبلی کے ممبر کونسل آف سٹیٹ کے ممبروں سے مل کر تمہیں آدمیوں کی ایک فہرست تیار کر کے گورنر جنرل کے پاس بھیج دیا کریں جو ان میں سے چند آدمیوں کو منتخب کر کے ان میں سے ایک ایک کو ہر ایگزیکٹو ممبر کے ساتھ پارلیمینٹری سیکرٹری کے طور پر لگا دیں۔ یہ سیکرٹری تنخواہ دار ہوں اور اسی طرح ڈسپلن کے پابند ہوں جس طرح دوسرے ملازم ہوتے ہیں اور ان کا فرض ہو کہ وہ محکمہ کی پالیسی کی پابندی کریں اور اس کے رازوں کو محفوظ رکھیں اور پورے طور پر اپنے افسر اور گورنر جنرل کے سامنے جوابدہ ہوں نہ کہ اسمبلی کے سامنے ۔ ان کے ساتھ ایک مستقل آفیشل سیکرٹری بھی ہو لیکن یہ فرق نہ کیا جائے کہ چند محکمے مستقل طور پر ان منتخب سیکرٹریوں کے لئے مخصوص کر دیئے جائیں بلکہ دونوں سیکرٹریوں کے جو کام سپرد ہو ان پر باری باری منتخب اور مستقل کارکن لگتے رہیں تا کہ محکمہ کی تمام شاخوں کا منتخب سیکرٹریوں کو علم اور تجربہ ہوتا رہے۔ اسمبلی کے برخاست ہونے یا کئے جانے پر یہ لوگ بھی کام سے علیحدہ ہو جائیں۔ اور پھر نئے انتخاب پر نیا پینل تیار ہو جس سے گورنر جنرل نئے وزراء کا انتخاب کریں لیکن اسمبلی کے برخاست ہونے سے پہلے انہیں گورنر جنرل تو علیحدہ کر سکیں لیکن اسمبلی ان کے خلاف کوئی روٹ پاس نہ کر سکے۔ اس طرح ایک تو ایگزیکٹو اپنا کام بغیر کسی قسم کی روک کے کر سکے گی دوسرے ایسے لوگ حکومت کا کام کرنے کی مشق پیدا کر لیں گے جن پر مجالس قانون ساز کو اعتبار ہو گا۔ تیسرے وہ لوگ جو سیکرٹری مقرر ہوں گے باوجود ایگزیکٹو کا جزو ہونے کے ہوجہ منتخب مجالس میں سے آنے کے ملک کی صحیح ترجمانی ایگزیکٹو مشوروں کے وقت کر سکیں گے۔ اور ایگزیکٹو پر اپنا اخلاقی اثر ڈال کر اسے ایک حد تک مجالس کے منشاء کے مطابق چلانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ چوتھے یہ لوگ گورنمنٹ کے لئے بھی مفید ہوں گے کیونکہ بوجہ مختلف پارٹیوں کا نمائندہ ہونے کے اس پر ان کا اثر ہو گا اور