انوارالعلوم (جلد 11) — Page 18
انوار العلوم جلد 1 ۱۸ ہدایت کے متلاشی کو کیا کرنا چاہئے کی کوئی عقلمند ایک لمحہ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ آپ بڑھاپے کی عمر میں فتنہ و فساد پیدا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ کے متعلق تاریخ میں ایک واقعہ درج ہے جو اگرچہ عام مؤرخین کی نظر سے پوشیدہ ہے مگر مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ وہ جنگ اُحد کا واقعہ ہے جب کہ آنحضرت میں اسلام کے دانت شہید : ہوئے۔ اس وقت ابو سفیان نے کہا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کہاں ہے ابوبکر ابو بکر ( ال ا ) ) کہاں ہے؟ ؟ عمر عمر ( ( الله ( کہاں ہے؟ یعنی سب مارے گئے الله صلی الله عنه رضی ہیں۔ اس وقت حضرت عمر ا جواب دینے لگے کہ میں تمہارے مارنے کے لئے موجود ہوں مگر آنحضرت میں ہم نے روکا اور اپنی ذات کے لئے کچھ نہ کہنے دیا۔ لیکن جب ابو سفیان نے کہا اُعْلُ بَلْ أَعْلَ هُبَل تو اس وقت آنحضرت میں اللہ سے برداشت نہ ہو سکا۔ اور فرمایا کیوں نہیں کہتے اللهُ أَعْلَى وَ أَجَلُّ ، غرض آپ نے ہرگز اپنی ذات نہ منوائی نہ اپنی بڑائی چاہی بلکہ ہمیشہ خدا کی ذات منواتے رہے۔ پس میں ان واقعات کی موجودگی میں ہرگز نہیں سمجھ سکتا کہ آنحضرت مالی تعلیم اپنی بڑائی دنیا میں پھیلانے کے لئے آئے تھے۔ پس میں یہی ایک بات پیش کر کے احمدیوں سے بھی اور دوسرے فرقوں کے مسلمانوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ تعصب سے کام لینا چھوڑ دیں اور صداقت پر غور کریں۔ اب جب کہ میں گاڑی پر جانے والا ہوں بعض اصحاب نے سوالات کئے ہیں۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تمام کے جواب دے سکوں صرف ایک بات پیش کرتا ہوں جس سے کوئی اہلِ مذہب انکار نہیں کر سکتا اور وہ یہ کہ خدا کو ماننے والے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی سے بڑھ کر پیار کرنے والا کوئی وجود نہیں۔ اگر کوئی خدا ہے تو وہ ہمارے ماں باپ سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ اسے ہماری ہدایت کی زیادہ فکر ہے۔ ایک امریکن دہریہ کی کتاب میں نے پڑھی ہے جو خدا تعالیٰ کے متعلق دیباچہ میں عیسائیوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔ ایک بات مجھے سمجھائیں اور وہ یہ کہ اگر خدا ہے تو اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اسے ہمارے ساتھ ہمارے والدین سے زیادہ پیار ہونا چاہئے۔ اس نے سب کچھ ہمارے لئے بنایا تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ پیار نہ کرے اور والدین سے زیادہ ہماری فکر نہ کرے۔ پھر کہتا ہے۔ اگر میں زہر کھاتا ہوں تو مجھے ماں باپ روکتے ہیں، دوست روکتے ہیں مگر جب میں گمراہی و ضلالت میں مبتلاء ہوتا ہوں تو کیا وجہ خدا میرا ہاتھ نہیں پکڑتا۔ پھر وہ کہتا ہے مجھ سے کہا جائے گا کہ تم گندے ہو جیسے والدین نالائق اولاد