انوارالعلوم (جلد 11) — Page 437
انوار العلوم جلد 1 ۲۳۷ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل سے )His Excellency Viceroy( یہ کیا کہ ہڑا ۔یکسیلینسی وائسرائے کو میرے ہمراہی کو اندر لے گئے اور گفتگو کے وقت برابر ساتھ رہے۔ ممکن ہے آئندہ جو واقعہ میں بیان کرتا ہوں انہیں بھی یاد ہو ۔ ملتے ہی مسٹر مانٹیگو نے مجھ سے پوچھا کہ جو ایڈریس آج احمد یہ جماعت کی طرف سے پڑھا گیا ہے وہ کس کا لکھا ہوا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ وہ لکھا ہوا تو میرا ہے لیکن انگریزی ترجمہ دوسرے لوگوں نے کیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ مجھے اس ایڈریس کو سن کر احمد یہ سلسلہ سے اس قدر دلچسپی پیدا ہوئی کہ میں نے فارغ ہوتے ہی سب پہلا کام یہ His) کو لکھا کہ اگر ان کی لائبریری میں کوئی کتاب احمدیت کے بارہ میں ہے تو مجھے بھجوا دیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک کتاب مجھے بھجوا دی۔ جو میں ابھی ابھی پڑھ رہا تھا اور یہ کہہ کر انہوں نے وہ کتاب بھی مجھے دکھائی۔ میرا خیال ہے کہ وہ مسٹر والٹر ( MR۔ WALTER) کی کتاب احمدیت تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے آپ کے سلسلہ کے متعلق باتیں کرنا چاہتا ہوں لیکن ایک بات جو آپ کے ایڈریس میں مجھے غلط ، غلط معلوم ہوئی ہے پہلے ! ہوئی ہے پہلے اس کا ذکر کر لوں اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے ایڈریس میں لکھا ہے کہ ہندوستان کی ریلوں وغیرہ پر فارن کیپیٹل لگا ہوا ہے۔ ایسا تو نہیں ہے ریلوں وغیرہ پر یا انگریزی سرمایہ ہے یا ہندوستانی۔ میں نے جواب دیا کہ انگریزی سرمایہ بھی تو اجنبی سرمایہ ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کم سے کم میں تو انگریزوں اور ہندوستانیوں کو ایک ہی سمجھتا ہوں اور ایک دوسرے کے مقابل میں اجنبی نہیں خیال کرتا۔ میں نے دیکھا کہ اس وقت ان کی آواز میں نہایت ملائمت اور گہرا سوز تھا۔ ان کی آواز اور ان کے چہرہ کی حالت کا جو میرے دل پر اثر ہوا وہ اس قدر گہرا ہے کہ آج تیرہ سال گذر جانے پر بھی وہ فراموش نہیں ہوا۔ اس وقت میرے عزیز چودھری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹرایٹ لاء جو احمد یہ جماعت کے ایک فرد ہیں اور اس وقت راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا نمائندہ مقرر ہو کر انگلستان گئے ہوئے ہیں ، میرے ہمراہ تھے۔ تاکہ مسٹر مانٹیگو کے سامنے میری باتوں کا انگریزی میں ترجمہ کرتے جائیں۔ ممکن ہے ان کے دل پر بھی اس کا اثر ہوا ہو۔ مگر میرے دل پر تو آج تک ان کی اس بات کا اثر ہے اور جب کبھی میں انگریزی اخبارات میں انگریزوں کے قلم سے نکلا ہوا یہ فقرہ دیکھتا ہوں اہوں کہ "مسٹر مانٹیگو جن کی کی کوئی قومیت بھی نہ تھی۔ “ انہوں نے ہندوستان کے متعلق سب خرابی پیدا کی ہے تو مجھے فورا وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے اور میں حیران ہو جاتا ہوں کہ انسانی علم کس قدر ناقص ہے۔ وہ شخص جس نے مذکورہ بالا فقرہ میں اپنے دل کی