انوارالعلوم (جلد 11) — Page 432
انوار العلوم جلد !! باب پنجم ۳۲ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل ۔ ملازمتیں سائمن کمیشن نے اپنی رپورٹ کی جلد دو کے نویں باب میں ملازمتوں کے مستقبل پر بحث کی ہے۔ گو اس نے اس باب کو مستقل جگہ دی ہے لیکن میں جو خیالات ظاہر کرنا چاہتا ہوں ان کی رو سے اس بحث کی جگہ صوبہ جاتی کونسلوں کے ماتحت ہی آتی ہے۔ لی (LEE) کمیشن کی رپورٹ پر تمام منتقل شدہ محکموں کی بھرتی صوبہ جات کے سپرد کر دی گئی تھی سوائے طبی محکمہ کے کہ اس کی بھرتی کا ابہ بھرتی کا ایک حصہ آل انڈیا بھرتی کے اصول پر قائم رکھا گیا تھا کیونکہ یہ کہا گیا تھا کہ جب تک انگریز اس ملک میں کام کرتے ہیں، یہ ضروری ہے کہ ان کا علاج کرنے کے لئے انگریز ڈاکٹر بھی رہیں اور دوسرے یہ خیال کیا گیا تھا کہ جنگ کے دنوں میں طبی محکمہ پر بہت کچھ دارو مدار ہوتا ہے اگر آئندہ کوئی جنگ ہو اور اس وقت کافی تعداد میں لائق ڈاکٹر نہ ملے تو جنگ کا انتظام درہم برہم ہو جائے گا۔ پس ہر صوبہ کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ کچھ تعداد فوجی ڈاکٹروں کی ضرور ملازم رکھے۔ لیکن محفوظ محکمہ جات کی بھرتی بدستور آل انڈیا بھرتی کے اصول پر رکھی گئی تھی۔ یعنی ان محکموں کی بھرتی اب تک وزیر ہند کی وساطت سے کی جاتی ہے اور صوبہ کے لئے ان کی تعداد گورنمنٹ آف انڈیا صوبہ جات کے مشورہ سے مقرر کرتی ہے اور اس تعیین میں وہ اپنی ضرورتوں کو بھی مد نظر رکھتی ہے کیونکہ گورنمنٹ آف انڈیا کے محکموں کے لئے کوئی الگ بھرتی نہیں ہوتی۔ اس بھرتی کے طریق میں کئی فوائد سمجھے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس طرح ضرورت کے موقع پر ایک افسر کی خدمات بغیر اس کے حقوق وغیرہ کے جھگڑوں کے ایک صوبہ سے دو سرنے صوبہ کی طرف منتقل کی جا سکتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ چھوٹے علاقوں کے لئے جو گورنروں کے