انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 427

انوار العلوم جلد !! علیحدہ کر دے۔ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل ججوں کے تقرر کے متعلق بھی ہمیں بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے کیونکہ ملک کی عدالت پر حکومت کے اچھے یا برے ہونے کا بہت حد تک انحصار ہوتا ہے۔ اس لئے میری رائے تو سہی ہے کہ بہتر ہو گا کہ ججوں کے تقرر میں وزارت کا دخل بالکل نہ ہو بلکہ گورنرہائی کورٹ سے مشورہ لے کر جج مقرر کیا کرے۔ اس کا طریق میرے نزدیک یہ ہونا چاہئے کہ جب کسی نئے حج کے مقرر کرنے کی ضرورت ہو تو گورنر ہائی کورٹ سے ہر آسامی کے لئے تین تین آدمیوں کا پینل طلب کرے۔ ہائی کورٹ اپنی کثرت رائے سے فی آسامی تین تین آدمی کے نام تجویز کر کے رپورٹ کرے اور گورنر ان میں سے ؟ جس کو پسند کرے کام پر مقرر کر دے۔ گور نر کو یہ بھی اختیار ہو کہ اگر اس کے نزدیک کسی قوم کو ہائی کورٹ میں اس کے حق سے کم نما کم نمائندگی حاصل ہو تو وہ سفارشات طلب کرتے ہوئے ہائی کورٹ کو ہدایت دے کہ وہ اس دفعہ صرف فلاں جماعت کے افراد کے نام تجویز کرے ۔ مزید شرط یہ بھی ہو کہ اگر کسی حج کو یہ خیال ہو کہ فلاں شخص خاص طور پر قابل ہے اور اس کا نام پیش نہیں کیا گیا تو وہ اختلافی نوٹ کی شکل میں اپنی رائے گورنر کے پاس بھجوا دے جسے اختیار ہو کہ استثنائی صورتوں میں ان رپورٹوں کو بھی انتخاب میں مد نظر رکھ لے۔ اسی طرح ایک اصلاح میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ایک وزارت عدالت قائم کی جائے اور عدالتوں کا تمام انتظامی کام اس کی وساطت سے ہو تاکہ ایگزیکٹو اور عدالت میں اختلاف نہ ہو۔ دوسرے بہت سے ممالک میں ایک عدالت کا وزیر ہوتا ہے : ہوتا ہے چنانچہ انگلستان میں بھی لارڈ چانسلر کے نام سے ایک وزیر ہوتا ہے۔ جس کا کام عدالتی محکمہ کا انتظام ہے۔ کونٹی کورٹ مج (COUNTY COURT JUDGE) نہ صرف مقرر کرتا ہے بلکہ انہیں ڈسمس (DISMIS) بھی کر سکتا ہے۔ ہائی کورٹ کے حج بھی اس کی سفارش پر مقرر ہوتے ہیں۔ ۲ سپریم کورٹ وہ ہائی کورٹوں کو صوبہ جاتی کورٹ بنانے کے بعد علاوہ اس کانسٹی چیوشنل (CONSTITUTIONAL) سوال کے جس کا میں پہلے ذکر کر آیا ہوں دوسری ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی ضروری ہے کہ ایک سپریم کورٹ ہندوستان میں بنایا جائے جو فیڈرل کورٹ ہو۔ علاوہ قانون اساسی کے متعلق اختلافوں کا فیصلہ کرنے کے اس