انوارالعلوم (جلد 11) — Page 419
انوار العلوم جلدا ۴۱۹ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل دن بھی اسی طرح آجائے گا جس طرح کہ طلاق شراب اور عورت کے مالی حقوق کا دن آگیا ہے۔ پس ایسی تدابیر جن کا اصل مقصد مسلمانوں کو مجبور کر کے ان کے مذہبی احکام کا چھڑوانا ہو کسی صورت میں بھی مسلمانوں کو منظور نہیں ہو سکتیں۔ یہ ہماری عورتوں کا کام ہے کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ کریں اور اسلامی اصول کے ماتحت اسے استعمال کریں۔ کسی دوسری قوم یا دوسری حکومت کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ہے کہ وہ عورتوں کے بارے میں مجبور کر کے اپنے منشاء کے مطابق ہماری قوم کو چلائے۔ پس اگر عورتوں کو فرنچائز (FRANCHISE) میں شامل کرنے کا نتیجہ یہ ہو کہ جو قوم اس پر عمل نہ کر سکے اس کے ووٹر کم رہ جائیں تو میں مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ کی طرف سے کمیشن کو کہہ سکتا ہوں کہ اس امر کو مسلمانوں کے مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں بھی تسلیم نہیں کریں گی۔ میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو عورتوں کی ترقی کے مخالف ہیں بلکہ میں مذہباً انہیں ویسا ہی روحانی ، علمی اور اخلاقی ترقی کا حق دار سمجھتا ہوں جیسا کہ مردوں کو۔ اور میں نے جس طرح اپنے زمانہ خلافت میں اپنی جماعت میں عورتوں کی تعلیم پر خاص زور دیا ہے اور اس کا انتظام کیا ہے اسی طرح میں نے ان کو آرگنائز (ORGANIZE) بھی کیا ہے۔ ان کی انجمنیں قائم کی ہیں اور قومی معاملات میں ان کو رائے دینے کا حق دیا ہے۔ پس یہ رائے کسی تعصب اور قدامت پسندی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک مخلصانہ مشورہ ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے برطانیہ ہندوستان میں ایسی فضاء پیدا کرنے کا مرتکب ہو گا کہ جو نہ اس کے لئے اور نہ ہندوستان کے لئے برکت کا موجب ہوگی۔ مسلمان عورت اُس وقت سے اپنے حقوق کی مالک ہے جس وقت کہ دنیا عورت کو روح سے خالی سمجھتی تھی۔ اور صرف دوسری اقوام کے اثر سے وہ اپنے کئی حقوق سے محروم ہے۔ اِنْشَاء اللہ وہ اپنے ہی بھائیوں اور باپوں کی مدد سے اپنے کھوئے ہوئے حق کو واپس لے لے گی۔ مگر اسی راہ سے جو اللہ تعالٰی نے اس کے لئے تجویز کیا ہے، جو نہ مرد ہے نہ عورت کہ اس پر ناجائز طرف داری کا الزام لگ سکے۔ میں شروع سے سیکنڈ چیمبرس (SECOND CHAMBERS) کا (۳) سیکنڈ چیمبرس مخالف رہا ہوں۔ اس وجہ سے نہیں کہ میں اس کی خوبیوں کا قائل نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ مانٹیگو چیمسفورڈ ریفارمز سکیم میں جو سیکنڈ چیمبر کا ڈھانچہ تیار کیا گیا تھا