انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 411

انوار العلوم جلد !! لماا ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل کو دے دی جائیں لیکن ان میں سے ایک مسلمان کے لئے اور ایک ہندو یا سکھ کے لئے وقف ہو۔ انتخاب مخلوط ہی ہو ۔ اور یا تو واحد قابل انتقال ووٹ سے انتخاب ہو لیکن شرط یہ ہو کہ دوسرا ممبر وہ نہیں ہو گا جسے دوسرے نمبر پر ووٹ ملیں بلکہ وہ مسلمان امیدوار ہو گا جسے مسلمانوں میں سے سب سے زائد ووٹ ملیں۔ یا ہر ووٹر کو دو ووٹ دیئے جائیں جن میں سے ایک وہ ہندو کو دینے کا اور ایک مسلمان کو دینے کا پابند ہو یا اور ایسا ہی کوئی طریق اختیار کیا جائے۔ خاص زمینداروں کو اگر الگ سیٹ دینی ہی ہے تو صرف ڈیرہ غازیخان کے تمنداروں کو جو چھوٹی قسم کے رولنگ چیس (RULING CHIEFS) ہیں ایک سیٹ دے دی جائے لیکن اس صورت میں ان کے لئے قاعدہ ہونا چاہئے کہ وہ دوسرے حلقوں میں سے نہیں کھڑے ہو سکتے۔ اگر ہم پنجاب کے دو سو ممبر فرض کریں جو ضرور ہونے چاہئیں تو یونیورسٹی کی دو اور تمنداروں کی ایک نشست فرض کر کے سات نشستیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک سو ترانوے (۱۹۳) نشستیں باقی رہ جاتی ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے مسلمان بچپن فیصدی سے کچھ زیادہ ہیں۔ ہندو اکتیس فیصدی کے قریب ہیں اور سکھ بارہ فیصدی ہیں اور مسیحی اور ادنی اقوام وغیرہ ایک فیصدی سے کچھ زیادہ ہیں۔ پس تعداد آبادی کے لحاظ سے ۲۳۶۱۶ سکھوں کو اور ۵۹۶۸ ہندوؤں کو اور ۲۶۵ مسیحیوں اور ادنی اقوام کو ممبریاں ملنی چاہئیں۔ ہم ہندوؤں کی نشستیں پوری ساٹھ فرض کر لیتے ہیں اور اسی طرح سکھوں مسیحیوں اور ادنی اقوام کی کسر پوری ممبری فرض کر کے چو ہیں اور تین ممبر فرض کر لیتے ہیں۔ پس بقیہ ۱۹۳ ممبروں میں ایک سو چھ ممبر مسلمان ہوئے۔ چونکہ ایک یونیورسٹی کی اور ایک تمنداروں کی نشست ان کو مل چکی ہے اس لئے ایک سو آٹھ ممبران کے ہوئے۔ اپنی تعداد کے لحاظ سے انہیں ایک سو گیارہ ممبریاں ملنی چاہئیں تھیں۔ پس اس حساب کے رو سے انہوں نے تین ممبریاں انگریزوں اور دوسری اقوام کو دیں۔ اس کے مقابل پر ہندوؤں کی یونیورسٹی کی نشست ملا کر اکسٹھ ممبریاں ہوئیں اور انہیں ایک ممبری اقلیتوں کے لئے قربان کرنی پڑی۔ جہاں تک میں غور کرتا ہوں اس امر کو دیکھ کر کہ سکھ اور ہندو تمدنی طور پر ایک ہیں اور ایک دوسرے کے حقوق نہ صرف ادا کرتے ہیں بلکہ دوسری اقوام کے مقابل پر اکٹھے ہو جاتے ہیں یہ انتظام نہایت منصفانہ انتظام ہے اور اس میں کسی قوم کا حق نہیں مارا جاتا۔