انوارالعلوم (جلد 11) — Page 13
انوار العلوم جلد ١٣ مسئلہ ذبیحہ گائے امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں نے ان کے جائز حقوق کا ہمیشہ احترام کیا ہے۔ چنانچہ پچھلے دنوں جب ایک احمدی نو مسلم کی کتاب کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا کہ اس سے ان ان کی دل آزاری ہوئی ہے تو گورنمنٹ نے بھی ان کی آواز پر توجہ نہ کی تھی کہ میں نے خود اس کتاب کو ضبط کر لیا اور انہیں اس امر کا اقرار ہو گا کہ میرا ضبطی کا حکم گورنمنٹ کے حکم سے زیادہ مؤثر تھا۔ کیونکہ نہ صرف اس کتاب کی خریداری رک گئی بلکہ فروخت شدہ کتاب یا اس کے قابل اعتراض حصے ہر جگہ جلا دیئے گئے۔ پس میں مخلصانہ طور پر انہیں مشورہ دینے کا حق رکھتا ہوں کہ گاؤ کشی کے سوال کے متعلق فیصلہ کرنے سے پہلے وہ دو باتوں پر غور کر لیں۔ اول اس کا مذہبی پہلو ہے۔ سکھ اصحاب یہ امر بھلا نہیں سکتے کہ حضرت بادا نانک عَلَيْهِ الرَّحْمَةُ نے توحید کے قیام کے لئے ہر قسم کی قربانی سے کام لیا ہے۔ پس جس چیز کو قائم کرنے کے لئے انہوں نے اپنی جانوں اور اپنے آرام کو قربان کر دیا تھا اس چیز کو محض ایک عارضی معاہدہ کے قیام کے لئے تباہ ہونے دینا ہر گز اپنے آباء کی خدمات توحید کا اچھا اعتراف نہ ہو گا۔ دوسرے انہیں یہ بات نہ بھلائی چاہئے کہ جب تک گاؤ کشی کے متعلق عام سکھوں کے جوش کی موجودہ حالت قائم رہے گی اس وقت تک سکھ پبلک کے دو لیڈر رہیں گے۔ ایک ہندو ساہوکار اور دوسرے سکھوں کے قومی لیڈر ۔ چنانچہ مذبح قادیان کا واقعہ اس امر کا تین ثبوت ہے۔ باوجود اس کے کہ سردار کھڑک سنگھ صاحب جیسے قومی لیڈر خود قادیان میں کہہ آئے تھے کہ گاؤ کشی : وکشی پر سکھوں کو اور جھٹکا پر مسلمانوں کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ مسلمانوں نے تو ان کی نصیحت پر عمل کر کے جھٹکا پر اعتراض نہ کیا مگر سکھوں کو ہندو جوش دلانے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر انہدام مذبح کے بعد بھی اکالی اور خالصہ سکھوں کے دونوں حصوں کے مؤثر اخبارات کے سمجھانے کے باوجود قادیان اور اس کے گردو نواح کے سکھوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ پس گاؤ کشی کے متعلق سکھوں کے رائج الوقت خیالات ان کے قومی شیرازہ کے باندھنے میں بھی روک ہیں۔ پس امید ہے کہ اپنے مذہب کی جان یعنی توحید کی حفاظت اور اپنے قومی شیرازہ کی مضبوطی کو مد نظر رکھتے ہوئے سکھ لیڈر اپنی قوم کو اس مشرکانہ خیال کی تائید میں کھڑا ہونے سے باز رکھیں گے بلکہ توحید کے قیام کے لئے ہمارے دوش بدوش کھڑے ہوں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اوپر کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ مسلمان اپنے