انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 403

انوار العلوم جلد ! ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کامل تاکید کی کہ آئندہ ملازمتوں میں مسلمانوں کے حق کو مقدم رکھا جائے کیونکہ یہ قوم بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ لیکن لارڈ کرزن کی تجویز بھی کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ ہندو دفاتر پر بہت قبضہ کر چکے تھے۔ اب یہ حال ہے کہ دفاتر پر ان کا قبضہ ہے، بنکوں پر ا ہے ، بنکوں پر ان کا قبضہ ہے اور تجارت پر ان کا قبضہ ہے۔ پنجاب میں قانون زمیندارہ کے منظور ہونے سے پہلے قریباً تمیں فیصدی زمینیں مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ان کے ہاتھ میں جا چکی تھیں۔ اور بنگال میں انگریزی عمل داری کے شروع ہی میں تحصیل داری کے ٹھیکوں میں وہ ملک کے مالک ہو چکے تھے۔ اب جو کچھ باقی ہے وہ رہن ہے یا قرضہ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے کیونکہ زمیندار قرض لینے پر مجبور ہے اور ہندو ساہوکار اپنی زیادہ طلبی کے راستہ میں کسی قانون کو مانع نہیں پاتا۔ پس ان حالات میں مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں حقیقی اکثریت کا مالک نہیں کہا جا سکتا حالانکہ جس اکثریت سے کوئی قوم اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتی ہے وہ حقیقی اکثریت ہے نہ کہ خالی تعدادی اکثریت۔ پس جب تک مسلمانوں کو حقیقی اکثریت حاصل نہ ہو جائے اس وقت تک وہ ان دونوں صوبوں میں بھی خاص حفاظت کے مستحق ہیں۔ اوپر کے تمدنی نقص کے علاوہ ایک اور نقص بھی ہے اور وہ یہ کہ فرنچائز (FRANCHISE) کے اصول ایسے بنائے گئے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں ووٹر دوسری اقوام سے تھوڑے رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ پنجاب جس میں مسلمان ۲ء ۵۵ کی تعداد میں ہیں ان کے ووٹروں کی تعداد ۷ ۴۳۶ ہے اور بنگال جس میں مسلمان ۵۴۶۶ ہیں۔ اس میں مسلمان ووٹروں کی تعداد ۴۵۶۱ فیصدی ہے۔ پس جب کہ بناوٹی قوانین سے مسلمانوں کے ووٹروں کی تعداد کو کم رکھا جاتا ہے تو مسلمان اکثریت میں کس طرح سمجھے جا سکتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آئندہ اس قسم کا انتظام کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو ان کی تعداد کے مطابق ووٹر مل جائیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال تو جس قدر جلد ہو سکے حل ہونا چاہئے لیکن باوجود اس نقص کے دور کرنے کے مسلمان فورا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ دونر فورا اپنے کام اور اپنے فرض کو نہیں سیکھ جاتے۔ کچھ عرصہ مسلمانوں کو پھر بھی چاہئے ہو گا جس میں کہ وہ اپنے ووٹروں کو ووٹ دینے کا طریق سکھا سکیں اور ان میں سیاسیات سے دلچسپی پیدا کر سکیں۔ کیونکہ شروع میں غیر مسلموں کو مسلمانوں پر یہ فوقیت ہو گی کہ ان کے ووٹروں کی زیادہ تعداد پچھلے بارہ سال کے تجربہ کے ماتحت اپنے کام سے واقف ہو چکی ہو گی اور سیاسی دلچسپی اس میں پیدا ہو چکی ہو گی۔ نئے ووٹر کو