انوارالعلوم (جلد 11) — Page 399
انوار العلوم جلد !! bbm ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل پر وہ کسی تبدیلی کے لئے تیار ہیں۔ مسلمانوں کو اگر ہندو اکثریت کے صوبوں میں کوئی حق ملا ہے یا اس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی بناء لارڈ منٹو کے اعلان پر ہے۔ جیسا کہ میں پہلے نقل کر چکا ہوں۔ لارڈ منٹو نے بحیثیت وائسرائے کے مسلمانوں کے وفد کے جواب میں یہ اعلان کیا تھا کہ:۔ آپ لوگوں نے بیان کیا ہے کہ موجودہ قوانین کی بناء پر جو جماعتیں کو نسلوں کے ممبر منتخب کرتی ہیں ان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی مسلمان امیدوار کو منتخب کریں گی اور یہ کہ اگر اتفاقاً وہ ایسا کر دیں تو یہ اس صورت میں ہو گا کہ وہ امیدوار اپنی قوم سے غداری کرتے ہوئے اپنے خیالات کو اکثریت کے ہاتھ فروخت کر دے اور اس وجہ سے وہ امیدوار اپنی قوم کا نمائندہ نہیں ہو گا۔ اسی طرح آپ لوگ بالکل جائز طور پر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کے حقوق کا فیصلہ صرف آپ کی قوم کی تعداد کو مد نظر رکھ کر نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس فیصلہ کے وقت آپ کی قوم کی سیاسی اہمیت کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے اور ان خدمات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ جو اس نے حکومت برطانیہ کی تائید میں کی ہیں۔ میں آپ کے اس خیال سے بالکل متفق ہوں۔" اس عبارت سے ظاہر ہے کہ لارڈ منٹو ( LORD MINTO) تسلیم کرتے ہیں کہ ۔ (1) جداگانہ انتخاب کے طریق کو اختیار کرنا مسلمانوں کے لئے کوئی احسان نہیں بلکہ صرف انہیں موت سے بچانے کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔ (۲) مسلمانوں کا حق ہے کہ ان کی تعداد سے زیادہ ان کو نیابت دی جائے۔ پس جدا گانہ انتخاب کو سائمن کمیشن یا کوئی اور جماعت احسان قرار دے کر اس کے بدلہ کی طالب نہیں ہو سکتی۔ وہ ایک ایسا طریق ہے جس کو لارڈ منٹو نے مسلمانوں کے حقوق کے قیام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کو ان کی تعداد سے زائد نیابت کا دیا جانا بھی لارڈ منٹو کے اعلان کے مطابق کسی اور صوبے میں اپنا حق چھوڑ دینے کے بدلہ میں نہیں ہے بلکہ ان کی سیاسی اہمیت اور ان کی قربانیوں کی وجہ سے ہے۔ پس اس زیادتی کے بدلہ میں پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کے حق کو تلف کرنا برطانیہ کے لئے ہرگز جائز نہیں ہو سکتا۔ برطانیہ کے نمائندے کہہ سکتے ہیں کہ لارڈ منٹو کا اعلان ایک پرزہ کاغذ زہ کاغذ سے زیادہ وقعت نہیں ، نہیں رکھتا۔ وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اب وہ