انوارالعلوم (جلد 11) — Page 376
انوار العلوم جلد !! ۳۷۶ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل دے اور اسے یہ بھی اختیار دیا ہے کہ وہ ضروری اخراجات کی منظوری دے یا ایسا نیا قانون پاس کر دے جس کی قیام امن کیلئے ضرورت ہو لیکن جب گورنر ان اختیارات کو برتنا چاہے تو پارلیمنٹ کو اس کی فورا اطلاع دے اور بغیر پارلیمنٹ کی منظوری کے ان غیر معمولی اختیارات کو بارہ ماہ سے زائد استعمال نہ کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب حکومت کا کام بند ہونے لگے تو اس قسم کا اختیار گورنر کے ہاتھ میں ضرور ہونا چاہئے کہ جس کی مدد سے وہ حکومت کا کام چلا سکے لیکن خطرہ کی جو تشریح کمیشن نے کی ہے وہ ایسی ہے کہ اسے غیر معمولی خطرہ نہیں کہہ سکتے اس لئے اس کی وجہ سے غیر معمولی اختیارات کو استعمال کرنیکی اجازت دینا کسی صورت میں جائز نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اس کا یہ کہنا کہ جب کوئی ایسی وزارت بنائی یا قائم نہ رکھی جا سکے جسے کو نسل کی امداد حاصل ہو تو اس وقت گورنر یہ اختیار برت سکتا ہے ہرگز درست نہیں۔ یہ حالت ہمیشہ متمدن ممالک میں پیش آتی رہتی ہے لیکن کبھی بھی اس کی وجہ سے آئینی حکومت کو معطل کر کے نیا نظام قائم نہیں کیا جاتا۔ اگر وزارت کا انتخاب یا اس کا قیام نا ممکن نظر آئے تو گور نر کا یہ کام ہے کہ وہ مجلس واضع قوانین کو برخاست کر کے نیا انتخاب کرائے نہ کہ فورا حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ پس اصل قانون یہ ہونا چاہئے کہ اگر کوئی موجودہ وزارت کام سے انکار کر دے اور اس کی جگہ لینے کے لئے منتخب نمائندوں میں سے کوئی شخص تیار نہ ہو تو پھر گورنر کو اختیار ہو گا کہ وہ وزارت کا کام اپنی مرضی کے مطابق بعض آدمیوں کے سپرد کر دے اور مجلس کو فورا برخاست کر کے دوسرا انتخاب کرائے اور اگر وہ مجلس بھی وزارت بنانے کے لئے تیار نہ ہو تو پھر وزارت کا کام اپنی نگرانی میں لے کر پارلیمنٹ کو اطلاع دے۔ یا اگر یہ حالت پیدا ہو جائے کہ موجودہ وزارت کام سے انکار کر دے اور بعض منتخب شدہ نمائندے وزارت کا عہدہ لینے کیلئے تیار ہوں تو منتخب شدہ نمائندوں میں سے قائم کی جاسکتی ہے۔ لیکن کو نسل کسی وزارت سے بھی تعاون کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو مختلف پارٹیوں کو وزارت پیش کرنے کے بعد اگر کام کسی صورت میں نہ چل سکے تو گورنر کو چاہئے کہ مجلس کو برخواست کر کے نیا انتخاب کرائے اور اگر اس نئے انتخاب کے بعد بھی وزارت کو کثرت حاصل نہ ہو اور نہ دوسری کوئی پارٹی اکیلی یا دوسروں سے مل کر کونسل میں کثرت حاصل کر سکے اور نہ کثرت خود حکومت کا کام آئینی طور پر اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے تیار ہو تو اس صورت میں کو نسل کو برخاست کر کے گور نر پارلیمنٹ