انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 359

انوار العلوم جلد 1 ۳۵۹ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل ہمیشہ سرحدی قبائل کو اکساتے رہیں۔ انگلستان اگر جزیرہ ہے تو کیا دنیا کی اور حکومتیں ایسی ہیں یا نہیں جن کی حدود دو سرے ممالک سے ملتی ہیں۔ پھر کیا وہ اپنے ان علاقوں کو آزادی سے محروم کر دیا کرتی ہیں ؟ یہ بات کہ سرحد تبھی مضبوط ہو سکتی ہے جب کہ سرحدی صوبہ کے لوگ یہ محسوس کریں کہ یہ ہمارا ملک ہے اور جو شخص حملہ کرتا ہے وہ ہماری آزادی میں دخل اندازی کرتا ہے ایسی موٹی بات ہے کہ ایک بچہ بھی اسے سمجھ سکتا ہے۔ سرحدیوں کو یہ یقین دلا دو کہ تم کو دوسرے صوبوں کی طرح حقوق نہیں مل سکتے تو دیکھو کہ وہ کس طرح آئے دن کو شش کرتے ہیں کہ انگریزی حکومت سے آزاد ہو کر اپنی ہمسایہ اقوام اور اپنے ہم قوم لوگوں سے مل جائیں۔ لیکن اس کے بر خلاف ان کو اپنے صوبہ میں آزاد حکومت دو پھر دیکھو کہ وہ کس طرح سرحد کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور اصل بات تو یہ ہے کہ اس دن سے آزاد قبائل بھی دخل اندازی سے باز آجائیں گے جس دن کہ سرحدی صوبہ کو اختیارات مل گئے کیونکہ وہ انگریزی علاقہ کے پٹھانوں سے گہرے تعلق پیدا کر چکے ہیں اور اگر وہ ان پر حملہ آور ہوں گے تو انہیں ان تعلقات کو خیر باد کہنا پڑے گا اور پشاور کوہاٹ اور بنوں کے لوگوں سے ان کے تعلقات خراب ہو جائیں گے اس لئے وہ ان حملوں سے باز رہیں گے ۔ اور جب حملوں سے باز رہیں گے تو لازما اپنے گزارہ کے لئے انہیں اور کوئی ذریعہ معاش کا تلاش کرنا پڑے گا اور اس طرح باہستگی وہ متمدن ہوتے چلے جائیں گے۔ آخر میں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ کمیشن بھی اس امر کو تو تسلیم کرتا ہے کہ موجودہ انتظام چھوٹے صوبوں کا عارضی ہے لیکن اس نے یہ غور نہیں کیا کہ کم سے کم کو رگ اور اجمیر مارواڑہ کے متعلق جو مشکلات ہیں وہ عارضی نہیں ہیں۔ نہ کو رگ والوں کا مذہب اور زبان تبدیل ہونے کا کوئی سیاسی احتمال ہے اور نہ اجمیر مارواڑہ کا علاقہ کسی وقت کسی دوسرے صوبہ کے قریب ہو سکتا ہے پھر اس وقت ان کے متعلق قطعی فیصلہ نہ کرنے سے کونسا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ آئندہ پر تو ان امور کا فیصلہ ڈالا جاتا ہے جن کے متعلق احتمال ہوتا ہے کہ شاید کل کو حالات تبدیل ہو جائیں۔ جب حالات سیاستاً وہی رہیں گے جو آج ہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان کا فیصلہ بعد میں کیا جائے۔ پس یا تو یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ ان چھوٹے چھوٹے چند صوبوں کی وجہ سے ہندوستان کی فیڈریشن کبھی بھی مضبوط نہ کی جائے گی اور یا پھر انہیں کسی نہ کسی صوبہ کے ساتھ ملا دیا جائے۔