انوارالعلوم (جلد 11) — Page 357
انوار العلوم جلدا ۳۵۷ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل لوگ گھبراتے ہیں۔ اور جس قسم کا سلوک نو واردوں سے اس علاقہ میں ہوتا ہے وہ لوگوں کو جرات نہیں دلاتا کہ اسے اپنا وطن بنائیں۔ لیکن جو نہی کہ اس صوبہ کو آئینی شکل دے دی گئی تو پنجاب اور سندھ کی آبادی کا کچھ حصہ شوق سے اس میں اپنے لئے ترقی کے نئے راستے نکالنے کی کوشش کرنے کے واسطے تیار ہو جائے گا۔ یہ خیال کہ اس صوبہ کی آمدن کم ہے اس تجویز کے راستہ میں روک نہیں بننا چاہئے کیونکہ اب بھی اس صوبہ پر امپیر کل گورنمنٹ (IMPERIAL GOVERNMENT) ہی روپیہ خرچ کرتی ہے۔ اگر چند سال تک امپیریل گورنمنٹ اور خرچ کرے گی تو اس ملک کی آمدن خود بخود ترقی کرے گی اور وہ ملک کی عظمت اور ترقی کا موجب ہوگا۔ لیکن اگر کسی طرح اس تجویز پر عمل نہ کیا جا سکے تو پھر میری رائے میں بہتر ہو گا کہ یا تو اسے صوبہ سرحدی کے ساتھ ملا دیا جائے کہ ساری سرحد ایک نظام کے ماتحت آ جائے۔ یا پھر سندھ کے ساتھ ملا دیا جائے کہ اس ملک کے ساتھ باقی علاقوں کی نسبت بلوچستان کو زیادہ مشابہت ہے اور ریل کی وجہ سے آمد و رفت میں بھی سہولت ہے۔ باقی جو علاقہ ریاستوں کا ہے وہ دوسری ریاستوں کی طرح پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھے گا۔ )POLITICAL DEPARTMENT( دہلی کی نسبت بھی میں تو یہی کہوں گا کہ اگر اسے الگ رکھنا ہے تو اس کو بھی ایک صوبہ کی شکل دے دی جائے اور اس کا بہتر طریق یہ ہے کہ ایک دو تحصیلیں پنجاب اور ایک دو تحصیلیں یو پی کے صوبہ سے لے کر اس کا علاقہ ذرا بڑا کر لیا جائے۔ چونکہ دہلی بوجہ صدر مقام ہونے کے جلد ترقی کر رہا ہے اور امید ہے کہ اپنے صوبہ کے اخراجات برداشت کرنے اس کے لئے مشکل نہ ہونگے نیز چونکہ اس کا بہت سا خرچ بوجہ صدر مقام ہونے کے ہو گا امپیریل گورنمنٹ کو اس کے اخراجات ادا کرنے میں کوئی دریغ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن اگر یہ تجویر کسی وجہ سے نا قابل عمل ہو تب بھی میں یہ کہوں گا کہ اسے صوبہ جاتی حکومت دینی چاہئے۔ اگر سوئٹزر لینڈ کی کنٹنز (CANTONS) کو جو دہلی سے بہت چھوٹی ہے لوکل سیلف گورنمنٹ کے اختیارات حاصل ہیں تو کیوں دہلی کو یہ )LOCAL) SELF GOVERNMENT( اختیارات حاصل نہ ہوں۔ اب صرف صوبہ سرحدی رہ جاتا ہے۔ میرے نزدیک وہ بھی اسی طرح آزادی کا مستحق ہے جس طرح اور صوبے۔ کمیشن نے ایک عجیب مثال دے کر اس صوبہ کو اس کے جائز حق