انوارالعلوم (جلد 11) — Page 304
انوار العلوم جلدا ارة له ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل حقوق کو قانون سازی یا اطلاق قانون یا قضاء میں سے کسی شعبہ میں یا سب شعبوں میں تلف کر دے۔ پس ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین اساسی بناتے وقت ہمیں ملحوظ رکھنا ہو گا کہ آئین ایسا ہو کہ جس میں ناواجب طور پر افراد یا جماعتوں کے حقوق تلف نہ ہو سکیں اور حکومت کا فائدہ سب ملک کو پہنچے نہ کہ کسی خاص جماعت کو خواہ وہ اقلیت ہو یا اکثریت۔ اگر مذکورہ بالا اصل صحیح ہے تو آئین اساسی مختلف ممالک کے حالات کے لحاظ سے مختلف ہوں گے کیونکہ اس ملک کے افراد کے خاص حالات کو ان میں مد نظر رکھا جائے گا۔ اگر فرض کرو کہ ایک ملک میں بعض افراد کو اپنی زبان کے متعلق خطرہ ہے تو اس امر کا لحاظ رکھا جائے گا کہ ان کی زبان کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ اگر مذہب کو خطرہ ہے تو مذہب کا لحاظ رکھا جائے گا۔ اگر فرض کرو کہ نئی قائم ہونے والی حکومت کے افراد بحیثیت افراد نہیں بلکہ بحیثیت جماعت کے اس نظام میں شامل ہوتے ہیں اور انہیں اپنے اندرونی نظام کے متعلق خطرہ ہے تو ان کے اندرونی نظام کی حفاظت کا خیال رکھا جائے گا۔ غرض چونکہ جمہوری حکومت افراد یا جماعتوں کی مرضی سے قائم ہوتی ہے حکومت کے نظام میں اس ملک کی ضرورت کے لحاظ سے ایسی حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں گی کہ جن سے افراد یا جماعتوں کے حقیقی یا جائز خوف کا ازالہ ہو سکے تاکہ وہ بشاشت قلب کے ساتھ نظام حکومت کو چلانے کیلئے تیار ہوں جس کے بغیر کوئی حکومت بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اب اس اصل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم ہندوستان کی حالت کو دیکھتے ہیں کہ آیا اس میں آئین حکومت کے قیام کے وقت حفاظتی تدابیر کے اختیار کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کن کن تدابیر کی ؟ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان میں بہت سی اقلیتیں ہیں جن میں سے سب سے زبر دست مسلمان ہیں۔ اور دوسرے نمبر پر مسیحی اور قومی لحاظ سے انگریز۔ میں اوپر ثابت کر چکا ہوں کہ اکثریت اور اقلیت کا اختلاف اس قدر شدید ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اکثر اقلیتیں اسے نظر انداز کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پس اگر ہندوستان میں صحیح معنوں میں جمهوری حکومت قائم کرنی ہے تو افراد یا جماعتوں کی حفاظت ضروری ہے۔ اس امر کا فیصلہ کہ کس حد تک اور کن کن امور میں حفاظت ضروری ہے ان اصول پر ہونا چاہئے۔ کیا افراد یا مجموعہ افراد کا خوف حقیقی ہے یا وہمی یا بناوٹی ؟