انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 287

انوار العلوم جلد ۲۸۷ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل جس کے واپس آنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ جس قوم نے اپنی ہمسایہ قوم کے بائیکاٹ کی ایسی منظم صورت نکالی ہے کیا اس کی نسبت اقلیتوں کو یہ مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ اس پر اعتبار کریں اور اپنی قسمت کی باگ ڈور اس کے سپرد کر دیں؟ یہ صورت صرف کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق نہیں ہے بلکہ اور تجارتوں کا بھی ایک تھوڑے فرق کے ساتھ یہی حال ہے۔ مسلمان عام طور پر ہندوؤں کی دکانوں پر سے سودا خریدتے ہیں لیکن ہندو شاذ و نادر ہی مسلمان کی دوکان سے سودا خرید تا ہے۔ کسی شہر میں کسی بازار میں کسی دن صبح سے شام تک پہرہ لگا کر دیکھ لو مسلمان کی دکان پر ہندو گاہک بہت کم آتا دکھائی دے گا۔ اگر مسلمان سے کسی قدر ارزان چیز بھی ملے گی تو بھی وہ ہندو سے ہی خریدے گا۔ ہندوؤں کا یہ تعصب اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو مکان بھی کرایہ پر نہیں دیتے۔ چنانچہ الہ آباد کے ایک مشہور ہندو لیڈر جو موجودہ گانگریسی تحریک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیڈر کہلاتے ہیں ان کے بہت سے مکانات الہ آباد میں ہیں لیکن ان کا حکم ہے کہ مکان کسی مسلمان کو کرایہ پر نہ دیا جائے۔ اور یہ امران سے مخصوص نہیں ہندوؤں کے ایک بڑے طبقہ کا یہی حال ہے۔ میں ۱۹۱۷ء میں بوجہ بیماری بمبئی گیا سمندر کے کنارہ پر رہنے کا چونکہ مشورہ تھا باندرہ جو بمبئی کے مضافات کا ایک قصبہ ہے اس میں ایک بنگلہ کرایہ پر لیا۔ میری والدہ صاحبہ ہمراہ تھیں انہیں کار بنکل کی تکلیف ہو گئی اور ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ علاج کی سہولت کے لئے بمبئی میں مکان لے لیا جائے ۔ مجھے چونکہ ڈاکٹری مشورہ سمندر کے کنارہ کے پاس رہنے کا تھا چوپائی پر مکان کی تلاش کی گئی لیکن کوئی مکان خالی نظر نہ آیا۔ آخر ایک ریاست کے وزیر اعظم جو بغرضِ تبدیلی آب و ہوا بمبئی میں آئے ہوئے تھے ان کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ مکان خالی کرنے والے ہیں۔ ان سے دریافت کیا گیا تو اتفاقاً وہ وطن کے لحاظ سے پنجابی نکلے اور وطنیت کے خیال سے انہوں نے وعدہ کر لیا کہ وہ مکان بقیہ ٹرم کے لئے ہمیں کرایہ پر دے دیں گے۔ کرایہ وغیرہ کا فیصلہ ان کے ساتھ ہو گیا مکان پر قبضہ کرنے کی تاریخ بھی مقرر ہو گئی لیکن بعد میں انہوں نے انکار کر دیا۔ جب ہم نے زیادہ زور دیا تو انہوں نے بتایا کہ بمبئی میں ایک بڑی جماعت ہندوؤں کی ایسی ہے جس نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ مکانات مسلمانوں کو کرایہ پر نہ دیئے جائیں۔ چنانچہ میں نے جب آپ سے وعدہ کر لیا تو بعض لوگ اس بات کو سن کر میرے