انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 275

انوار العلوم جلدا ۲۷۵ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل سکتا ہے لیکن مذکورہ بالا امور کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے ہندوستانی کمیشن والے فوجی افسروں یا نوجوان کنگز کمیشن والے افسروں کے متعلق یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایک دن میں سب ذمہ داری کے عہدوں کو سنبھالنے کی قابلیت پیدا کر لیں گے۔ نہ ایک دن میں پر کام کرنے والے یا ہوائی جہاز اور ان پر کام کرنے والے یا جنگی سامانوں کی جنگی بیڑا اور اس اس : مرمت کے ماہر پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہم اپنے ہمسایوں سے صلح رکھیں گے۔ کیونکہ ہمسایوں سے صلح رکھنی ہمارے اختیار میں نہیں ہے بلکہ ہمارے ہمسایوں کے اختیار میں ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ وہ بھی ہم سے صلح رکھیں گے۔ ان کا موجودہ اظہار دوستی ہرگز ہمیں تسلی نہیں دلا سکتا۔ اٹلی نے جس دن لڑکی کے افریقن علاقہ پر حملہ کرنا تھا اسی دن اس کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ لڑکی سے ہمارے تعلقات ایسے اچھے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ موجودہ زمانہ میں ہمیں نہ صرف افغانستان کی طرف سے خطرہ ہے بلکہ شمالی سرحد کی طرف سے روس اور نیپال دونوں حکومتوں سے خطرہ ہے۔ پہلے زمانوں میں شمالی لوگوں کو کو ہندوستان ہندوستان پر پر حملہ حملہ کا خیال نہیں پیدا ہوا؟ تھا لیکن مغلیہ حکومت کے آخری دور میں نیپال کو ہندوستان کی فتح کا خیال پیدا ہو چکا ہے۔ ایک دفعہ انگریزوں کی وجہ سے اس کا حملہ ناکام ہوا تھا مگر کون کہہ سکتا ہے کہ آزاد ہندوستان پر بھی اس کا حملہ اسی طرح ناکام ہو گا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انگریز اس وقت ملک کو بچانے کے لئے آئیں گے اس قدر دور ملک سے جب کہ خود اس ملک میں جنگی تیاری کا مرکز موجود نہ ہو مدافعت بالکل نا ممکن ہوتی ہے اس وقت جنگ کی مشینری یہاں موجود ہے۔ ہندوستان کو پوری آزادی دینے کے بعد یہ حالت نہیں رہ سکتی اور نئے سرے سے مرکز قائم کرنا بہت مشکل کام ہے۔ پس ان حالات کے ماتحت ہمیں ایک عرصہ تک انگریزی دخل ہندوستان کی مرکزی حکومت میں تسلیم کرنا ہو گا اور ہم یہ کے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ہندوستان کو آزادی کچھ مدارج طے کرنے کے بعد ہی مل سکتی ہے یکدم نہیں۔