انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 271

انوار العلوم جلد ۲۷۱ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل منسلک ہوتی ہے ہم بھی باوجود الگ الگ ملکوں میں بسنے کے پھر ایک ہی وجود کی طرح ہوں اور نہ تو ملکوں کا اختلاف اور نہ قوموں کا اختلاف ہمارے ان برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکے جو ہمارے پیدا کرنے والے نے ہم میں قائم کئے ہیں۔ بے شک لوگ مجھے مذہبی دیوانہ کہہ لیں لیکن میں یہ بات کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ وہ دنیا کو ایک مقام پر جمع کر دے بعد اس کے کہ وہ پراگندہ ہو رہی تھی اور یہ اس کا ارادہ آثار سے ظاہر ہے۔ میل جول کے سامان نئے سے نئے پیدا نئے پیدا ہو رہے ہیں، قومیں آپس میں مل رہی ہیں ، اتحاد امم کی خواہش ہی نہیں پیدا ہو رہی بلکہ دنیا ایسی مشکلات میں سے گذر رہی ہے کہ کسی نہ کسی قسم کے اتحاد کے لئے وہ مجبور ہو رہی ہے۔ ان تدابیر میں سے جو اللہ تعالی کی طرف سے دنیا کو متحد کرنے کیلئے کی جا رہی ہیں ایک لیگ آف نیشنز (LEAGUE OF NATIONS) بھی ہے اور دوسرے برطانوی حکومت کا موجودہ ڈھانچہ ہے جو میرے نزدیک ابتدائی تدابیر میں سے سب سے مکمل صورت میں ہے اس کے ذریعہ سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ملک ایک خیالی زنجیر میں بندھے ہوئے اور ایک رشتہ میں مسلک نظر آتے ہیں۔ کوئی طاقت اور کوئی فوج اس اتحاد کا موجب نہیں ، کوئی جبرا سے قائم نہیں رکھے ہوئے ایک دلی ارادہ اور ا ارادہ اور ایک دلی خواہش یہ سب کچھ کرا رہی ہے۔ ہر حصہ اپنے ملک میں آزاد ہے ویسا ہی آزاد جیسے کہ وہ ملک جو اس سلطنت سے باہر ہیں مگر پھر سب مل کر ایک دوسرے کی اعانت کرتے ہیں، ایک دوسرے کی مشکلات میں ہمدردی کرتے ہیں، ایک ایک گل کا کا اپنے آپ کو جزو سمجھتے ہیں۔ کوئی اسے خیالی دنیا کے یا قوتِ واہمہ کا حد سے بڑھ جانا خیال کرے میں تو اس سسٹم کو دنیا کے آئندہ اتحاد کے لئے بطور بیج کے خیال کرتا ہوں اور دنیا کے اتحاد کے خواب کی تعبیر سمجھتا ہوں۔ اگر ہندوستان اس سلسلہ کو اپنی شمولیت سے مضبوط کر دے تو یقینا وہ اتحاد عالم کی ایک شاندار خدمت کرے گا۔ میں سمجھتا اہوں کہ اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے مخفی اسباب پیدا کر کے یہ سلسلہ شروع کیا ہے۔ ا آہستہ آہستہ اس کے نقائص دور ہو کر ایک دن دن یہ یہ ایسا ایسا مکمل ہو جائے گا کہ جو تھوڑا بہت : شائبہ اور انگلستان کی برتری کا ہے وہ بھی جاتا رہے گا۔ اور اس وقت اس کی خوبیوں سے متاثر ہو کر کئی آزاد کہلانے والے ممالک بھی جب ان کے باشندوں کے دلوں سے تو میت کی تنگ دلی کم ہو جائے گی اس میں شمولیت کے خواہشمند ہو جائیں گے۔ اور غالبا اللہ تعالیٰ کی مشیت جو دنیا سے جنگ کو ایک وقت تک مٹا دینے کے متعلق ہے اس صورت میں پوری ہوگی اور امن ایک